.

دمشق کے نزدیک روسی اور شامی طیاروں کے حملوں میں 17 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی الغوطہ میں روسی اور شامی لڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں میں سترہ مزید شہر ی ہلاک اور پینتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ روسی اور شامی فوج کے لڑاکا طیاروں نے مشرقی الغوطہ کے علاقے حمیریہ میں سب سے تباہ کن حملے کیے ہیں اور وہاں دو بچوں سمیت بار ہ افراد مارے گئے ہیں۔

رصدگاہ کے مطابق روسی اور شامی لڑاکا جیٹ نے دو اور قصبوں مدیر ا اور عربین پر بھی فضائی بمباری کی ہے اور وہاں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔

شامی فوج دارالحکومت دمشق کے نزدیک واقع مشرقی الغوطہ کے مختلف علاقوں کو کم وبیش روزانہ ہی اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہی ہے۔ اسی ہفتے کے آغاز پر باغیوں اور جہادیوں پر مشتمل ایک اتحاد کے جنگجوؤں نے اس علاقے میں واقع شامی فوج کے واحد اڈے کا محاصرہ کر لیا تھا۔

اس تمام علاقے پر باغی گروپوں کا 2013ء سے قبضہ چلا آرہا ہے جبکہ شامی فوج نے تب اس کی ناکا بندی کررکھی ہے جس کی وجہ سے اس وقت وہاں رہ جانے والے چار لاکھ کے قریب افراد نان ِ جویں کو ترس رہے ہیں اور خوراک ، ادویہ اور دوسری اشیائے ضروریہ کی شدید قتّن پیدا ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ شام میں مارچ 2011ء میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک سے شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تین لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں اندرون اور بیرون ملک پناہ گزین کے طور پر رہ رہے ہیں۔