.

داعش تو ڈھیر ہو گئی پَر اُس کا خلیفہ بغدادی کہاں رُوپوش ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ابو بکر بغدادی نامی دہشت گرد کی جانب سے 2014 میں عراق اور شام میں اعلان کردہ "ریاست" تو ڈھیر ہو گئی تاہم اب یہ سوال باقی ہے کہ "بغدادی کہاں رُوپوش ہو گیا؟"

عالمی سطح پر ابوبکر بغدادی مطلوب ترین افراد میں شمار ہوتا ہے۔

داعش تنیظم کی شکست کے بعد بغدادی کی رُوپوشی کے مقام کے حوالے سے مختلف اندازے قائم کیے جا رہے ہیں تاہم غالب گمان کے مطابق وہ عراق اور شام کی سرحد کے درمیان کسی جگہ چھپا ہوا ہے۔

غالب گمان کے مطابق شام عراق سرحد پر

عراقی وزارت دفاع کے سکیورٹی مشیر سعید الجیاشی کا کہنا ہے کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ وہ شام کی سرحد کے نزدیک عراق کے اُس علاقے میں موجود ہے جو ابھی تک داعش تنظیم کے زیر کنٹرول ہے"۔

مسلح جماعتوں کے امور کے محقق ہشام الہاشمی کا کہنا ہے کہ تنظیم کا سرغنہ عراقی سرزمین میں بہت زیادہ دور نہیں ہے، بالخصوص وہ اُس علاقے میں ہے جہاں ماضی میں ابو عمر البغدادی اور ابو حمزہ المہاجر مارے جا چکے ہیں۔ ہاشمی کے مطابق انٹیلی جنس معلومات سے یہ غالب گمان سامنے آتا ہے کہ بغدادی "الثرثار" کے علاقے میں موجود ہے۔

بغدادی نے جولائی 2014 میں موصل کی مسجد الکبیر میں اعلانیہ طور پر نمودار ہو کر خود کو داعش کی ریاست کے خلیفہ کے منصب پر فائز کیا تھا۔

بین الاقوامی اتحاد کی فورسز کے تعاون سے عراقی اور شامی فورسز کی جانب سے 3 برس تک جاری گھمسان کی جنگ کے بعد بغدادی عراق میں اپنی ریاست کے زیر قبضہ تمام تر اراضی سے ہاتھ دھو بیٹھا جب کہ شام میں بچا کھچا علاقہ بھی ہاتھ سے نکل جانے کے قریب ہے۔

الجیاشی کا کہنا ہے کہ تنظیم کا خاتمہ اکتوبر 2016 میں نینوی صوبے کی آزادی کے معرکے سے قبل شروع ہو گیا تھا۔

فکری لحاظ سے داعش کی از سرِ نو تنظیم

الجیاشی کے مطابق داعش میں خلیفہ کا منصب اس وقت خالی ہے کیوں کہ بغدادی تنظیم کے انتظامی امور چلانے کے حوالے سے اپنی اہلیت کھو چکا ہے۔ تاہم داعش تنظیم خود اس معلومات کی تردید کرتی ہے۔ الجیاشی یہ سمجھتے ہیں کہ داعش تنظیم فکری لحاظ سے اپنی صفوں کو از سرِ نو منظّم کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ واشنگٹن نے بغدادی کے قتل یا گرفتاری میں مددگار ثابت ہونے والی معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 2.5 کروڑ ڈالر کی انعامی رقم رکھی ہے۔

اگرچہ غالب گمان یہ ہے کہ بغدادی شامی سرحد کے نزدیک عراق کے دُوردراز صحرائی علاقے میں کہیں موجود ہے تاہم بغداد حکومت کے پاس اس کے تعاقب کا کوئی منصوبہ نہیں۔ عراقی انسداد دہشت گردی کی فورسز کے نائب کمانڈر عبد الوهاب الساعدی کے مطابق بغدادی کی روپوشی کی جگہ معلوم نہیں اس واسطے اُسے پکڑنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ بغدادی کو نشانہ بنانا آسان نہیں ہے کیوں کہ وہ کبھی لڑائی کے علاقے میں نہیں پایا جاتا"۔

زندہ یا مرُدہ مطلوب

گزشتہ برس سے بہت سی رپورٹوں میں کئی بار اُس کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا۔ آخری مرتبہ گزشتہ برس جون میں روسی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس امر کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا بغدادی مئی میں شام میں ہونے والے روسی فضائی حملے میں مارا گیا ہے۔

تاہم روسی اعلان کے بعد بغدادی ایک مرتبہ پھر آڈیو ٹیپ میں اپنی آواز کے ساتھ نمودار ہوا ، یہ ٹیپ داعش تنظیم کی ایک مقرب ویب سائٹ پر 28 ستمبر 2017 کو جاری کی گئی۔ ٹیپ میں بغدادی نے شام اور عراق میں اپنے حامیوں اور جنگجوؤں کو ثابت قدمی سے ڈٹے رہنے پر زور دیا تھا۔

بغدادی کے حوالے سے عراقی فوج نے گزشتہ برس 13 فروری کو ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا تھا کہ عراقی فضائیہ کے ایف-16 طیاروں نے عراق کے مغرب میں شامی سرحد کے نزدیک ایک گھر پر حملہ کیا جس کے بارے میں خیال ہے کہ بغدادی اپنے دیگر ساتھی رہ نماؤں کے ساتھ یہاں موجود تھا۔

عراقی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی رسول کا کہنا ہے کہ "یقینا ہمارا اولین ہدف بغدادی کو گرفتار کرنا ہے۔ تاہم اُس کا ٹھکانہ معلوم ہو جانے کی صورت میں اگر گرفتاری ممکن نہ رہی تو پھر اس کو ہلاک کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا"۔