.

ایران کی جانب سے یمنی کرنسی کی جعل سازی کے پیچھے کیا سبب ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت نے منگل کے روز ایک ایرانی ادارے پر (اُس کا نام لیے بغیر) الزام لگایا ہے کہ اُس نے یمن کی مقامی کرنسی کی مسلسل جعل سازی اور یمنیوں کی معاشی مشکلات میں اضافے کے لیے کرنسی کی قدر کو کم کرنے کی کوششیں کیں۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی برادری کو بلیک میل کر کے حوثی ملیشیا کے خلاف عسکری کارروائیوں سے روکنا ہے"۔

حکومت کے سرکاری ترجمان راجح بادی نے بتایا کہ "ایرانی منصوبے کا ہدف حوثی ملیشیا کی صورت میں اپنے آلہ کار کو برقرار رکھنا اور اپنے اُس منصوبے کو بچانا ہے جو عرب اتحاد کی معاونت سے یمنی فوج کی کاری ضربوں اور حوثیوں کی ہزیمتوں کے بعد خاتمے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے"۔

یمنی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بادی کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے غیر ملکی نقدی کے ذخائر سے 5 ارب ڈالر لُوٹے اور مرکزی بینک میں موجود 20 کھرب یمنی ریال پر قبضہ کر لیا۔

ترجمان کے مطابق حوثی باغی مقامی کرنسی کی اس خطیر رقم کو ایکسچینج ریٹ میں سٹّے بازی کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں یمنی ریال کی قیمت میں بگاڑ آ رہا ہے۔

گزشتہ دنوں میں یمنی ریال کی قدر تاریخ میں کم ترین سطح پر آ گئی۔ ایک ڈالر کی قیمت 500 یمنی ریال کی حد سے تجاوز کر گئی۔ 2014 میں حوثی باغیوں کی جانب سے آئینی حکومت کا تختہ الٹنے سے قبل ایک ڈالر 215 یمنی ریال کے برابر تھا۔

یمنی حکومت کے ترجمان نے باور کرایا کہ ان کی حکومت کرنسی کی قدر میں گراوٹ کو روکنے کے لیے خصوصی کوششیں کر رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں اہم اقدامات اور فیصلے کیے جائیں گے تاہم انہوں نے ان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

یاد رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے نومبر 2017 میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قُدس فورس کے زیر انتظام کرنسی اور کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس نیٹ ورک نے یمن میں کروڑوں ڈالر کے مساوی جعلی مقامی کرنسی چھاپی تھی۔