.

ٹرمپ کے دباؤ کا نتیجہ: ایران، یورپ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران اپنے متنازع بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرق وسطی میں علاقائی توسیع کے سلسلے میں اپنی تخریبی پالیسیوں کے حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہو گیا ہے۔

برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ اور جوہری معاہدے کی اصلاح کے مطالبے کے نتیجے میں تہران یورپ کے ساتھ مذکورہ امور کو زیر بحث لانے پر راضی ہو گیا۔

آخری موقع

ڈونلڈ ٹرمپ جوہری معاہدے پر نظر ثانی اور اس کی اصلاح کے لیے آخری موقع دے چکے ہیں۔

وہ معاہدے میں بعض ترامیم چاہتے ہیں جن میں میزائل پروگرام کا خاتمہ اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کا عدم حصول شامل ہے۔ ٹرمپ بارہا یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ ایران کی جانب سے ان شرائط پر عدم موافقت کی صورت میں امریکا معاہدے سے نکل جائے گا جب کہ یہ موقف یورپ کے نزدیک پسندیدہ نہیں۔

اخبار نے جرمن وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمنی ، فرانس اور برطانیہ کے وزراء اعظم کے علاوہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی رابطہ کار فیڈریکا موگرینی تہران کے ساتھ اس امر پر متفق ہو گئے ہیں کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت کے حوالے سے "بھرپور اور سنجیدہ" بات چیت شروع کی جائے۔

رپورٹ کے مطابق جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کو ایران کے ساتھ اس موافقت کے نتائج سے آگاہ کیا۔ یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے زیگمار کی فرانس اور برطانیہ کے وزراء خارجہ سے ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ اسی طرح فیڈریکا موگرینی نے بھی ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد سے ملاقات کی تھی۔

ٹرمپ کا انتباہ

اخبار کے مطابق یورپی سفارت کار تیزی کے ساتھ وہائٹ ہاؤس کے ذمّے داران سے معلومات حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں تا کہ ٹرمپ کے اُن مطالبات کا تعین کیا جا سکے جو وہ یورپی یونین کو دی گئی 120 روز کی مہلت کے دوران جوہری معاہدے میں ترامیم کے واسطے کریں گے۔

ایک یورپی سفارت کار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ٹرمپ کی یورپی یونین کو دیے گئے اس انتباہ کا حاصل یہ ہے کہ اگر آئندہ چار ماہ کے دوران "آپ لوگوں نے عمل نہیں کیا تو معاہدہ اختتام پذیر ہو جائے گا۔ اس طرح آپ لوگ ہمارے شانہ بشانہ نہیں بلکہ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے"۔

تہران اور یورپ کے بیچ اچھے تعلقات

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نے یورپ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی تا کہ اپنی علاقائی پالیسیوں کے سبب اپنے خلاف ایک بڑے بین الاقوامی محاذ کی تشکیل کو روک سکے۔ تاہم ایرانی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ جوہری معاہدہ امریکا کے بغیر ہر گز جاری نہیں رہ سکے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ بار ہا اس جوہری معاہدے کو "بدترین" قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ برس اکتوبر میں ایران کی جانب سے معاہدے کی پاسداری کی توثیق سے انکار کر دیا اور معاہدے کے مستقبل کو غیر یقینی حالت میں چھوڑ دیا۔

ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں اور ملیشیاؤں کی سپورٹ اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو ترقی دے کر خطے اور پوری دنیا میں شدت پسندی اور دہشت گردی کو پھیلا رہا ہے۔