شام میں کارروائی کردوں کے خلاف نہیں اپنے دفاع کے لیے: ترکی
ترک حکومت نے باور کرایا ہے کہ شام کے کرد اکثریتی علاقوں عفرین، منبج اور جرابلس میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا مقصد شام کی کرد آبادی کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں۔ ترکی اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک حکومت کے ترجمان ابراہیم قالن نے کہا کہ ترک فوج کی شام کی حدود میں کسی بھی مقام پر کارروائی کا مقصد شام کے کردوں کو نشانہ نہیں بلکہ ہم اپنی قومی سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
ترک حکومت کے ترجمان نے ان خیالات کا اظہار استنبول میں منعقدہ پہلی عالم جنگ کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔
ابراہیم قالن کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے لیے ان کا ملک تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ چاہے شام کےعلاقے عفرین، منبج اور جرابلس ہوں یا عراق کے کرد علاقے ترکی کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنیں، ہم ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں گے۔
شمالی شام بالخصوص کرد اکثریتی علاقوں میں امریکا کی زیرنگرانی ایک نئی فورس کی تشکیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے قالم نے کہا کہ ترکی کی سرحد پر ایسی کی بھی فورس کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ترکی کی سلامتی کے لیے کسی بھی طرح کا خطرہ ثابت ہو۔ فی الحال ایسی کی بھی فورس کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں ہیں۔ اگر ایسی کوئی فورس تشکیل دی جاتی ہے تو ترکی اس کی مزاحمت کرے گا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں داعش کے خلاف قائم امریکا کے زیرنگرانی عالمی عسکری اتحاد نے کہا تھا کہ امریکا شمالی شام میں 30 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک نئی فورس تشکیل دینے پرغور کررہا ہے۔ یہ نئی فورس سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے تعاون سے قائم کی جائے گی۔
خیال رہے کہ ترکی ڈیموکریٹک فورسز کو باغی گروپ ’پی کے کے‘ کا شام میں عسکری ونگ قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
دوسری جانب پینٹا گون کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں وہ جس فورس کی تشکیل کی کوشش کررہے ہیں وہ روایتی بارڈر سیکیورٹی فورس نہیں ہوگی۔ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شام میں ایک نئی بارڈر فورس تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔