.

امریکا ترکی کے ساتھ مل کر شام میں سیف زون کے قیام کا خواہشمند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شام کے شمال مغرب میں سیف زون کے قیام کے لیے ترکی کے ساتھ کام کرنے کا آرزومند ہے۔

ٹیلرسن نے باور کرایا کہ واشنگٹن انقرہ اور "بعض زمینی فورسز" کے ساتھ اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ ترکی کی جنوبی سرحد پر امن و امان کی صورت حال کو کس طرح مستحکم رکھا جائے تا کہ انقرہ کی جانب سے سکیورٹی اندیشوں کو دور کیا جا سکے۔

اس سے قبل سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عفرین کے حوالے سے "اپنی ذمّے داری کو پورا کرے"۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن یہ باور کرا چکے ہیں کہ "غصن الزیتون" آپریشن روس کے ساتھ متّفقہ مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایردوآن نے اعلانیہ طور پر آپریشن سے کے حوالے سے انقرہ اور ماسکو کے درمیان اتفاق رائے کی بات کی ہے۔

دوسری جانب ترکی کے نائب وزیراعظم بکر بوزداج نے زور دیا ہے کہ اگر امریکا شام میں ترکی کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے تو وہ کرد پروٹیکشن یونٹس کی سپورٹ روک دے۔

حکومتی اجلاس کے بعد دیے گئے اخباری بیان میں بوزداج نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ "کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اُس آپریشن پر روک لگائے جو اُن کا ملک شام کے شہر عفرین میں کرد یونٹس کے خلاف کر رہا ہے"۔