"کرد پیپلز پروٹیکشن" کا بشار حکومت سے عفرین میں مداخلت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کی فورس کی سیاسی اور عسکری قیادت نے شامی حکومت سے عفرین شہر میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تا کہ شمالی شام میں ترکی کے فوجی آپریشن کا مقابلہ کیا جا سکے۔

مذکورہ فورس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نے بشار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کردوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عفرین میں مداخلت کرے۔ فورس کے مطابق وہ ترکی کی فوج کو روکنے کے لیے شامی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا ہے کہ ترکی کی فوج شام کی اراضی میں حلب شہر تک پیش قدمی کر سکتی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ عفرین میں فوجی آپریشن جاری ہے۔ ایردوآن کے مطابق ترک عوام عفرین آپریشن کو اسی طرح سپورٹ کر رہے ہیں جس طرح وہ 2016 میں انقلاب کی کوشش کے خلاف صف آرا ہو گئے تھے۔

انقرہ حکومت نے گزشتہ ہفتے شمالی شام میں کرد مسلح گروپوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اس آپریشن کو "غصن الزیتون" کا نام دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں