بھارتی فن کار نے اونٹوں کے جسموں پر نقاشی کے 30 فن پارے بنا ڈالے
سعودی عرب میں کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹول میں اونٹوں پر بنائے جانے والے نقش و نگار نے لوگوں کی خصوصی توجہ حاصل کر لی۔ اونٹوں کے جسموں کی آرائش کے حوالے سے یہ "ہندوستانی" عوامی ثقافت کی پیش کش ہے جس میں اونٹوں کو شان دار فن پاروں میں تبدیل کر دیا گیا۔
بھارتی ریاست راجھستان سے تعلق رکھنے والے فن کار تلک نائے نے 20 برس کی ریاضت کے بعد اس فن میں تکنیکی مہارت حاصل کی۔ ان کے فن پاروں میں عام طور پر اونٹ اور گھوڑے شامل ہوتے ہیں۔
پیچیدہ نوعیت کی نقاشی کی صورت میں تلک نائے ایک قلم کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی یادداشت سے ہاتھی ، گھوڑے ، مردوں ، عورتوں ، ہرن ، بطخ ، گلاب کے پھولوں اور ہندوستانی اور اسلامی نقش و نگار کی تصاویر اور خاکے تلاش کر کے لاتے ہیں۔
نائے کے مطابق ایک اونٹنی کے جسم پر 25 سے 30 نقوش بنائے جا سکتے ہیں۔ اونٹنی کے جسم کے بالوں کو تراشنے کے بعد وہ قینچی کا استعمال شروع کرتے ہیں اور پھر نقش کو مزید باریکی دینے کے لیے قلم کا استعمال کرتے ہیں۔ نائے کا کہنا ہے کہ وہ سفید ، سرخ اور سیاہ اونٹنیوں پر نقاشی کی طرف زیادہ میلان رکھتے ہیں کیوں کہ ان پر بنائے گئے نقوش زیادہ واضح ہوتے ہیں۔
تلک نائے نے کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹول کے ذریعے سعودی عرب میں پہلی مرتبہ اپنی شرکت پر مسرت کا اظہار کیا۔
میلے میں اس سرگرمی کے نگراں محمد بن مسفر القرینی کے مطابق اس ثقافتی مظہر نے آنے والوں کی بھرپور توجہ حاصل کی اور لوگوں نے اونٹوں کے جسموں پر ان فن پاروں کو بہت پسند کیا ہے۔