.

تحریک ’الصابرین‘ فلسطین میں ایران کی نئی آلہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین میں کئی تنظیمیوں کے براہ راست یا بالواسطہ طورپر ایران کےساتھ تعلقات قائم ہیں مگر ایرانی پشت پناہی سے سرگرم ایک نئی تنظیم ’الصابرین‘ کے نام سے حال ہی میں اس وقت ذرائع ابلاغ کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی جب امریکی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں’تحریک الصابرین‘ کو بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ اور دیگر شخصیات کو بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے فلسطین میں سرگرم ’تحریک الصابرین‘ کے بارے میں اہم تفصیلات جاری کی ہیں اور بتایا ہے کہ یہ گروپ ’اسلامی جہاد ’ تنظیم سے الگ ہونے والے عناصر نے اپریل 2014ء میں تشکیل دیا تھا۔

آپ تحریک الصابرین کے پرچم اور اس کے ’لوگو‘ کا بہ غور جائزہ لیں تو صاف پتا ہے کہ تحریک الصابرین ایرانی حمایت یافتہ لبنانی شیعہ ملیشیا ’حزب اللہ‘ کی کلوننگ ہے۔ اس کے اعلانیہ منشور میں عرب خطے میں ایرانی نظام کی توسیع کے ساتھ یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کی جنگ اسلام کے لیے ہے اور ایران اسلام کا حقیقی نمائندہ ہے اور ایران ہی قضیہ فلسطین کے حل کے لیے پورے عزم کے ساتھ کوشاں ہے۔

تحریک الصابرن کے براہ راست تعلقات لبنانی حزاب اللہ کے ساتھ ہیں۔ تنظیم کے غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں موجود دفاتر میں حسن نصراللہ کی تقاریر کی ویڈیوز، لبنانی مزاحمتی گروپوں کا لٹریچر اور دیگر ایرانی اور شیعہ کتب اور لٹریچر موجود ہے۔

تحریک الصابرین کے پاس ایران سے حاصل کردہ ہتھیار موجود ہیں۔ ایران ہی کی طرف سے اس گروپ کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ اس گروپ کے ایک اہم لیڈر ھشام سالم نے کچھ عرصہ پیشتر اسلامی جہاد سے ناطہ توڑ کر تحریک الصابرین کے قیام کے لیے کوششیں شروع کردی تھیں۔

ایرانی پروگرام کی ترویج واشاعت

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقب فارسی نیوز وینب سائیٹ ’مشرق نیوز‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین کی ’تحریک الصابرین‘ کو براہ راست ایران کی جانب سے مالی امداد فراہم کی کی جاتی ہے۔ الصابرین بھی ایران ہی کے منصوبے کی ترویج و اشاعت میں سرگرم ہے۔ یہ فلسطین میں خمینی انقلاب کے نظریے کے کافی حد قریب ہے۔

فارسی ویب سائیٹ کے مطابق ’تحریک الصابرین غزہ کی پٹی کی ابتر سیاسی اور دگر گوں معاشی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ مسلک کے پھیلاؤ اور اشاعت کے لیے کوشاں ہے۔ فلاحی اور خیراتی منصوبوں کی آڑ میں یہ گروپ لوگوں کو شیعہ مسلک کی طرف دھکیل رہا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے تحریک الصابرین کے جنرل سیکرٹری ھشام سالم نے تسلیم کیا کہ ان کی جماعت کو ایران کی طرف سے مالی مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے آیت اللہ علی خمینی کے افکار کو سراہا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تحریک الصابرین کے لیے مدد کی تحسین کی۔

اسلامی جہاد سے علاحدگی کے اسباب

تحریک الصابرین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے ایران نواز فلسطینیوں میں سے بیشترکا تعلق اسلامی جہاد کے ساتھ تھا۔ سنہ 2010ء میں اسلامی جہاد میں ایک ’اصلاح پسند‘ گروپ سامنے آیا۔ ویب سائیٹ’مانیٹر‘ کے مطابق رفح کےعلاقے سے تعلق رکھنے والے تحریک الصابرین کے ایک رکن محمد حرب نے بتایا کہ اصلاح پسند گروپ نے اسلامی جہاد کے بانی ’فتحی الشقاقی‘ کے افکار کے احیاء پر زور دیا کیونکہ اسلامی جہاد اپنے بانی کے نظریات سے دور ہوتی جا رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے بانی نے فلسطین میں خمینی نظریات اور طریقہ کار کے مطابق انقلابی جدو جہد کا اعلان کیا تھا۔ اس کا اظہار مشہور کتاب’خمینی اسلام کا متبادل حل‘ میں بھی کیا گیا ہے۔

ایک سوال جواب میں محمد عرب نے کہا کہ اصلاح پسند دھڑے نے تنظیم میں بعض انتظامی اصلاحات کا مطالبہ کیا تاہم تحریک جہاد اسلامی کی قیادت نے اصلاحات کے مطالبے پر کوئی توجہ نہ دی۔ اس کے بعد تحریک الصابرین وجود میں آئی۔

ایرانی آلہ کار

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطین کے عوامی حلقوں میں تحریک الصابرین کو اگرچہ زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی حانکہ قریب قریب اس کے ہم خیال کئی اور گروپ بھی ایران سے امداد حاصل کرتے ہیں۔

فلسطینیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ تحریک الصابرین فلسطن میں ایران کا اپنے مذموم عزائم کی توسیع کے لیے ایک ہتھیار اور آلہ کار ہے۔ یہ تنظیم فلسطین میں لبانی حزب اللہ اور یمن کی انصار اللہ کی طرز پر کام کررہی ہے۔

غزہ کی پٹی کی سب سے بڑی اور غلبہ رکھنے والی جماعت حماس اور تحریک الصابرین کے درمیان کوئی خاص قربت پیدا نہیں ہوسکی بلکہ چھ جولائی 2015ء کو حماس نے تحریک الصابرین کو تحلیل کرنے کا بھی فیصلہ کای تھا۔ حماس کا کہنا تھا کہ تحریک الصابرین اہل غزہ کے نظریات اورمنھج کے خلاف کام کررہی ہے مگر ایران کے دباؤ کے بعد حماس اپنے اس فیصلے پرعمل درآمد نہیں کرسکی۔

تحریک الصابرین کے سربراہ ھشام سالم کے یوٹیوب پر ویڈیوز بیانات موجود ہیں جن میں وہ کھل کر ایران کی تعریف توصیف بیان کرتے اور ایران سے مدد کے حصول کا اعتراف کرتے ہیں۔