.

دانش مندانہ فیصلوں سے عدن میں شورش کا خاتمہ ممکن ہے:انور قرقاش

عرب اتحاد یمن میں امن استحکام کے لیے دانش مندانہ حکمت عملی اپنا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عرب اتحاد یمن میں آئینی حکومت کی مدد کرکے عدن میں جاری شورش کا دانش مندانہ حل نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدن میں متحارب فریقین کے درمیان تحمل اور دانش مندی کی کمی کے نتیجے میں انتشار میں اضافہ ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر اپنی متعدد ٹویٹس میں انور قرقاش نے کہا کہ ہم سب کہ اصل توجہ یمن میں ایرانی ایجنڈے پرکام کرنے والے حوثی باغیوں کی سرکوبی پر مرکوز ہونی چاہیے۔ ہماری پہلی ترجیح حوثیوں کی بغاوت اور ان کے پروگرام کو شکست دینا ہے۔ انہوں نے عدن میں شورش پھیلانے والے عناصر پر زور دیا کہ وہ بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔

انور قرقاش نے کہا کہ ان کے ملک کا یمن کے بارے میں موقف دانش مندانہ ہے جسے تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ امارات نے اپنے پڑوسیوں کےدفاع، استحکام اور ان کی ترقی کے لیے جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔

امارات وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ میں عدن میں کشیدگی کا محرک بننے والے تمام فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ حسن نیت کے ساتھ اپنی ترجیحات کو سامنے رکھتے مسائل کے حل پرتوجہ مروکز کریں۔ حوثی باغیوں کی بغاوت کی روشنی میں یمنی فریقوں نیا سیاسی فارمولہ وضع کرنا ہو گا۔

انور قرقاش کاکہنا تھا کہ عدن میں فتنہ پردازی سے ہمارے مشترکہ اہداف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حالیہ ایام میں یمن کے عبوری دارالحکومت میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے حوالے سے امارات اور سعودی عرب کا موقف ایک ہے۔