.

شام میں جنگ بندی پرغور کے لیے سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں فریقین میں ایک ماہ کی جنگ بندی کے امکانات پر غور کے لیے عالمی سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس آج جمعرات کو طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں دمشق میں اقوام متحدہ کے اداروں کے مندوبین کو بھی شامل ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل کا بند کمرہ خصوصی اجلاس کویت او سویڈن کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام میں مشرقی الغوطہ میں اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں پر اسدی اور روسی فوج کی بمباری سے بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات آ رہی ہیں۔

سلامتی کونسل میں سویڈن کے مندوب الوف اسکوگ نے کہا کہ شام میں اسپتالوں پر وحشیانہ بمباری اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات پر ہمیں گہری تشویش ہے۔ تازہ بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی پرمجبور ہوئے ہیں۔

سویڈش مندوب نے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کو امدادی آپریشن کی اجازت نہ دینا باعث تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کو فوری طورپر متاثرہ علاقوں تک رسائی کی اجازت ملنی چاہیے تاکہ جنگ سے متاثرہ افراد ، زخمیوں اور مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق شام میں جنگ سے متاثرہ 1 کروڑ 30 لاکھ افراد فوری امداد کے منتظر ہیں۔

ادھر دمشق میں اقوام متحدہ کے تمام ذیلی اداروں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین ایک ماہ کے لیے فوری جنگ بند کریں تاکہ زخمیوں اور جنگ سے متاثرہ شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔