.

مصر: دہشت گردی کے خلاف جامع اور فیصلہ کن آپریشن کا آغاز

مغربی سرحد سیل، العریش کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف ملک گیر بالخصوص شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء کے شمال مشرق میں فیصلہ کن آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ مصری فوج کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کی اعلیٰ کمان کی طرف سے جزیرہ سیناء میں دہشت گردوں کے خلاف وسیع تر آپریشن’ سیناء 2018ء‘ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

آج جمعہ کے روز سے مصری فوج نے شمالی اور وسطی جزیرہ نما سیناء میں دہشت گرد عناصر اور جرائم پیشہ گروپوں کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن کارروائی شروع کی ہے۔ آپریشن میں شمالی اور وسطی جزیرہ نما سیناء مصر ڈیلٹا، صحرائی پٹی اور مغربی وادی نیل میں بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔

مصری فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تازہ آپریشن صدر جمہوریہ کی جانب سے مسلح افواج کو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے سونپی گئی ذمہ داری پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔ صدر کی طرف سے ملک کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے اور تمام ریاستی اداروں کی معاونت سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

ترجمان نے مصری عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن میں فوج کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ دہشت گردی کے خاتمے، ملک میں قانون کی عمل داری، امن استحکام اور انتہا پسندی کے خاتمے میں فوج کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے بارے میں سیکیورٹی اداروں کو فوری طورپر آگاہ کریں۔

وزیر دفاع آپریشن کی نگرانی کرے گا

شمالی جزیرہ نما سیناء میں دہشت گردوں کے خلاف جاری تازہ آپریشن کی وزیر دفاع براہ راست نگرانی کریں گے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں تمام سیکیورٹی ادارے بالخصوص پولیس اور فوج مل کر کارروائیوں میں حصہ لے گی۔

قاہرہ میں العربیہ کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مصری وزیر دفاع صدقی صبحی آپریشن کنٹرول روم میں موجود رہیں گے اور جزیرہ سیناء میں ہونے والی کارروائیوں کو براہ راست مانیٹر کریں گے۔

مصر کی ملٹری انٹیلی جنس اور دیگر خفیہ اداروں نے شمالی سیناء، وسطی سیناء، العریش اور دہشت گردوں کے زیراثر دوسرے علاقوں میں دہشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔ ان معلومات کی روشنی میں آپریشن آگے بڑھایا جائے گا۔

مغربی سرحد سیل

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے دوران لیبیا سے متصل سرحد کو سیل کیا جا رہا ہے تاکہ آپریشن کے دوران دہشت گرد عناصر لیبیا فرار نہ ہو سکیں۔ لیبیا کی سرحد سے متصل علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار مصری فوج نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے غیر مسبوق تیاری کی ہے۔ گذشتہ گھنٹے سے جنوبی العریش اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے حملے جاری ہیں۔

صدر السیسی کی مہلت

مصر میں دہشت گرد عناصر کے خلاف تازہ آپریشن صدر عبدالفتاح السیسی کیی طرف سے دی گئی تین ماہ کی ڈیڈ لائن کے تناظر میں شروع کیا گیا ہے۔ صدر السیسی نے 29 نومبر 2017ء کو مسلح افواج کے سربراہ جنر محمد فرید، وزیر داخلہ میجر جنری مجدی عبدالغفار اور دیگر حکام کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ذمہ دارانہ انداز میں آپریشن کا آغاز کریں اور تین ماہ کے اندر اندر ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کیا جائے۔ انہوں نے حکم دیا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پولیس اور فوج کو طاقت کے بھرپور استعمال کے اختیارات دیے جائیں۔

صدر السیسی نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف وسیع آپریشن کا حکم اس وقت دیا تھا جب شدت پسند گروپ ’داعش‘ نے جزیرہ سیناء میں ایک مسجد پرحملہ کرکے 311 نمازیون کو ہلاک اور زخمی کر دیا تھا۔

اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ

ادھر مصر کے علاقے العریش کے طبی ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کی طرف سے علاقے کے تمام اسپتالوں کو آپریشن کے دوران ہنگامی حالت نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے العریش اور اطراف میں موجود اسپتالوں کے طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور چھٹیوں پر موجود اسٹاف کو حاضر کر دیا گیا ہے۔ جزیرہ سیناء گورنری کے تمام اسپتالوں میں ادویات کی وافر مقدار پہنچائی گئی اور حسب ضرورت خون بھی مہیا کیا گیا ہے۔