حوثیوں کی جانب سے بچوں کا قتل عام جاری، یمنی فوج کی پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کی طرف سے نہتے شہریوں کا قتل عام جاری ہے۔ ہفتے کے روز حوثی دہشت گردوں نے ایک تین سالہ بچہ اور بیس سالہ نوجوان گولیوں سے بھون ڈالا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی طرف سے داغا گیا ایک گولہ تعز شہر کی مشرقی کالونی المجلیہ میں کار پر آکر گرا جس کے نتیجے میں تین سالہ رغد رشاد اور 28 سالہ محمد سعید قائد شہید ہوگئے جب کہ خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔

اس مجرمانہ واقعے سے چند گھنٹے قبل مشرقی تعز میں ثعبات کالونی میں حوثیوں کے حملے میں ایک سالہ شیر خوار اور اس کی دادی شہید ہوگئی تھیں۔

درایں اثناء یمن کی سرکاری فوج نے ہفتے کے روز مزید کئی مقامات پر حوثیوں کے خلاف پیش قدمی کی ہے۔

یمنی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے مشرقی اور مغربی تعز میں گھمسان کی لڑائی کے بعد کئی مقامات پر باغیوں کو پسپا کردیا۔

یمن کے عسکری ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فوج نے مشرقی تعز میں وادی الشعاری، العدنہ اورالمقرمی کے مقامات سے باغیوں کو نکال باہر کیا۔

مغربی تعز میں الجیرات، المروات، العریش اور مشرقی صبر کالونی کو باغیوں سےچھڑایا گیا۔ سیکیورٹی فوج نے ایک دوسری کارروائی کے دوران جنوبی مقبنہ میں جبل رحنق کو باغیوں سے چھڑا لیا۔ جبل رحنق میں حوثیوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے بعد وہاں سے باغیوں کو نکال باہر کیا گیا۔

یمنی فوج کے مطابق جبل رحنق کو چھڑانے کے لیے کیے گئے آپریشن میں 20 حوثی باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں