.

مغربی کنارہ: یہودی بستیوں کا پھیلتا "سرطان" ، آباد کار ٹرمپ کے شکر گزار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تعداد میں اضافے کی شرح گزشتہ برس اسرائیل کی آبادی میں اضافے کی شرح سے دو گنا رہی۔ اس بات کا اعلان پیر کے روز یہودی آباد کاروں کے رہ نما یاکوف کیٹس نے کیا۔ کیٹس نے توقع ظاہر کی آئندہ برسوں میں یہودی بستیوں کی نمو میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گا۔

کیٹس کا کہنا تھا کہ وہائٹ ہاؤس کے ساتھ اس حوالے سے اختلاف کے آٹھ برس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دوستانہ ماحول پیدا کیا ہے جس کے نتیجے میں یہودیوں بستیوں میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ کیٹس نے باور کرایا کہ "ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے ٹرمپ کو ہمارے واسطے امریکا کا صدر بنا کر بھیجا"۔

اس موقع پر یاکوف کیٹس کی جانب سے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2018 کو مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی مجموعی تعداد 435159 ہو گئی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے 420899 آباد کاروں کے مقابلے میں 3.4% زیادہ ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران یہودی بستیوں کی آبادی میں 21.4% اضافہ دیکحنے میں آیا۔

اعداد و شمار کے مرکزی دفتر کے مطابق اسرائیل کی آبادی میں گزشتہ برس کی نسبت 1.8% اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح اسرائیل کی مجموعی آبادی 80 لاکھ 74 ہزار 300 ہو گئی ہے۔

یاکوف کیٹس کے مطابق یہودی بستیوں میں تیزی سے اضافے کے بعد دو ریاستی حل کا خیال ختم ہو جانا چاہیے جس کو فلسطینی اور عالمی برادی کے زیادہ تر ممالک ترجیح دیتے ہیں۔

کیٹس کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ کی مدت صدارت کے اختتام تک مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تعداد 5 لاکھ کے قریب ہو سکتی ہے۔ کیٹس کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار میں اُن 2 لاکھ اسرائیلیوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جو اس وقت مشرقی بیت المقدس میں رہ رہے ہیں۔

یاکوف کیٹس نے باور کرایا کہ "ہم نقشے کو تبدیل کر رہے ہیں۔ دو ریاستی حل کا خیال اپنی موت آپ مر چکا"۔