.

وزارت دفاع کی ترقی کے حوالے سے شاہ عبداللہ کا محمد بن سلمان سے کیا مطالبہ تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں پیر کی شام جاری ایک شاہی فرمان میں وزارت دفاع کی ترقی سے متعلق دستاویز کی منظوری دی گئی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزارت کی ترقی سے متعلق حکمت عملی اور ویژن پر مشتمل منصوبہ سابق فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور موجودہ فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ہوتا ہوا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تک پہنچا ہے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یہ منصوبہ سابق فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو پیش کیا تھا۔ اس کے نتیجے وزارت دفاع کی صورت حال اور ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔

شاہ عبداللہ نے شہزادہ محمد بن سلمان کو مذکورہ کمیٹی کے سکریٹری جنرل کے طور پر چُنا اور انہیں وزیر دفاع کے دفتر کا نگرانِ عام مقرر کیا۔ شاہ عبداللہ نے شہزادہ محمد بن سلمان کو وزارت دفاع کی تنظیم نو کی بڑی ذمّے داری سونپی۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے معذرت کے باوجود شاہ عبداللہ نے یہ ذمّے داری سنبھالنے پر اصرار کیا۔

سال 2014ء کے بعد سے سعودی وزارت دفاع میں موجود نئی نسل مملکت میں وزارتی سطح پر تبدیلی کی سب سے بڑی مہم کی قیادت کر رہی ہے۔

سعودی ولی عہد نے 21 اپریل 2016 کو امریکی نیوز ایجنسی بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کی تصدیق کی کہ وہ وزارت دفاع میں نئی اصلاحات کو یقینی بنانے کے واسطے شاہ عبداللہ مرحوم سے مستقل بنیادوں پر ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے مطابق ایسا کوئی خیال یا تجویز نہ تھی جس کو انہوں نے پیش کیا ہو اور شاہ عبداللہ نے اس پر عمل درامد کے احکامات جاری نہ کیے ہوں۔

شہزادہ محمد کے مطابق سعودی عرب عسکری ساز و سامان پر اخراجات کے حوالے سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔

یاد رہے کہ قومی دفاع کی حکمت عملی کی روشنی میں وزارت دفاع کی ترقی کے پروگرام کا منصوبہ درجِ ذیل امور پر مشتمل ہے :

- وزارت کے نئے تنظیمی ڈھانچے کی اہمیت پر توجہ مرکوز کرنا

- وزارت کے پانچ مرکزی مقاصد پر توجہ مرکوز کرنا۔ یہ مقاصد مشترکہ عمل کی امتیازی حیثیت اور برتری کو یقینی بنانا ، وزارت دفاع کی اداریاتی کارکردگی کو ترقی دینا ، انفرادی کارکردگی کو ترقی دینا اور مورال بلند کرنا ، اخراجات کی اہلیت کو بہتر بنانا اور عسکری صنعت کی لوکلائزیشن کو سپورٹ کرنا اور ہتھیاروں کے نظاموں کو جدید ترین بنانا ہیں۔