.

اسرائیل اب فلسطینی مطاہرین کے خلاف ڈرونز کا استعمال کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل فلسطینی مظاہرین کو منتشر اور کنٹرول کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل اب ڈرون کے ذریعے ان علاقوں میں بھی آنسو گیس پھینکے گا، جہاں اس کی سکیورٹی فورسز نہیں جا سکتیں۔

ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ کے اواخر میں متوقع طور پر فلسطینی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کریں گے اور اس دوران اسرائیلی سرحدی پولیس ان کے خلاف نئی ٹیکنالوجی پر مبنی آنسو گیس گرانے والے ڈرون استعمال کرے گی۔

اسرائیلی بارڈر پولیس کے ڈپٹی کمشنر یاکوو شابتائی کا ایک اسرائیلی ٹیلی وژن سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آنسو گیس ڈرون سکیورٹی فورسز کی مظاہرین تک رسائی میں اضافہ کر دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا ایک ’فضائی گاڑی (ڈرون)‘ ایک ہی وقت میں آنسو گیس کے چھ کنستر لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہیں ایک ایک کر کے بھی گرایا جا سکتا ہے اور ایک ساتھ بھی۔

اسرائیلی ڈیویلپر اب ایسی ’فضائی گاڑیوں‘ کی صلاحیت بڑھانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ ایک وقت میں آنسو گیس کے کم از کم بارہ کنستر ٹرانسپورٹ کیے جا سکیں۔

اسرائیلی بارڈر پولیس کے ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا، ’’یہ ٹیکنالوجی ہر خطرے کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس طرح ہم ان مقامات تک بھی پہنچ جائیں گے، جہاں ہم ابھی تک نہیں جا سکے۔‘‘

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق دو ہفتے پہلے بارڈر پولیس نے ایسے ڈرون کا تجربہ اس وقت کیا تھا، جب جمعے کی نماز کے بعد غزہ سرحد پر احتجاج ہو رہا تھا۔ رواں ہفتے حماس کے ایک ترجمان نے ذرائع سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہرے میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو لانے کی کوشش کی جائے گی۔