.

ہم نہیں جانتے کہ شام بطور ایک ریاست باقی رہے گا یا نہیں: روسی نائب وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریبکوف کا کہنا ہے کہ ماسکو کو یہ نہیں معلوم کہ شام کی سرزمین کی وحدت برقرار رہنے کے حوالے سے کیا پیش رفت سامنے آئے گی۔

روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق جرمنی ٹی وی ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے ریبکوف کا کہنا تھا کہ "ہم نہیں جانتے کہ "آیا شام ایک ریاست کے طور پر باقی رہ سکے گا یا نہیں"۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے جمعے کے روز باور کرایا کہ روسی صدر ولادمیر پوتین کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وہائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پوتین امریکی صدر سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

لاؤروف نے زور دے کر کہا کہ ٹرمپ اور پوتین اس بات پر 100% متفق ہیں کہ امریکا اور روس کے درمیان عسکری تصادم واقع نہ ہونے دیا جائے۔

گزشتہ ہفتے کو علی الصبح شامی ٹھکانوں پر امریکی حملے کی بابت روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو نے واشنگٹن کو آگاہ کر دیا تھا کہ شام میں سرخ لکیر یا ہے اور امریکی حملے میں اس سے تجاوز نہیں کیا گیا۔

لاؤروف کے مطابق مذکورہ امریکی حملے کے بعد روس اخلاقی طور پر اس امر کا پابند نہیں رہا کہ وہ شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد کو S-300 میزائل نظام فراہم نہ کرے۔