پیرس حملوں میں ملوث صلاح عبدالسلام کو بیلجیئم کی عدالت سے 20 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیلجیئم کی ایک عدالت نے پیرس حملوں کے مشتبہ ملزم صلاح عبدالسلام کو 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ عبدالسلام کو 2016ء میں بیلجیئم میں فائرنگ کے واقعے کے دوران قاتلانہ حملے کی کوشش کا قصور وار ٹھہرانے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

بیلجیئم کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق عبدالسلام اور سفیان العیاری عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ایجنسی کے مطابق العیاری کو بھی اس حوالے سے قصور وار ٹھرایا گیا ہے۔

عبدالسلام اس وقت فرانس کی جیل میں موجود ہے اور نومبر 2015ء میں پیرس میں "داعش" تنظیم کے حملے میں اپنے کردار کے حوالے سے عدالتی کارروائی کا منتظر ہے۔ ان حملوں میں کم از کم 130 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ صلاح عبدالسلام پیرس میں دہشت گرد حملوں کے سلسلے میں زندہ رہ جانے والا واحد مشتبہ ملزم ہے۔

صلاح عبدالسلام کو بیلجیئم میں 15 مارچ 2016ء کو پولیس پر فائرنگ کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے سبب عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔ یہ واقعہ پیرس حملوں کے 4 ماہ بعد پیش آیا۔

بیلجیئم پولیس ایک گھر میں عبدالسلام کو گرفتار کرنے کے قریب تھی مگر وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ فرار ہو گیا۔ اس دوران ایک تیسرے شخص نے پولیس پر فائرنگ کر دی جو بعد ازاں جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔

اس کے تین روز بعد عبدالسلام اور اس کے ساتھی کو برسلز میں گرفتار کر لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں