موصل میں "مسجد النوری" کی تعمیر نو کے لیے امارات 5 کروڑ ڈالر دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق اور متحدہ عرب امارات کے درمیان موصل کی مشہور "النوری" جامع مسجد اور اس کے تاریخی مینار "الحدباء" کی تعمیر نو کے حوالے سے اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ یہ دونوں تعمیرات گزشتہ جون میں شہر سے داعش تنظیم کو نکال دینے کے لیے ہونے والے معرکے کے دوران تباہ ہو گئیں تھیں۔

پیر کے روز بغداد میں قومی عجائب خانے میں منعقد ایک تقریب کے دوران امارات کی وزیر ثقافت نورہ الکعبی نے اعلان کیا کہ اُن کا ملک تعمیراتی عمل کے لیے 5 کروڑ 4 لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کرے گا۔ الکعبی کے مطابق یہ منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہو گا جس کا مقصد صرف تعمیرِ نو نہیں بلکہ عراق کے نوجوانوں کی امیدوں کو پھر سے لوٹانا ہے۔

موصل شہر کی مسجد النوری اور اس کے الحدباء مینار کی تعمیر بارہویں صدی عیسوی میں ہوئی تھی۔ جون 2017ء میں اس کو تباہ کر دیا گیا جس کا الزام عراقی فوج نے داعش تنظیم پر عائد کیا۔ یہ وہ ہی مسجد ہے جہاں 2014ء میں داعش تنظیم کے سرغنے ابو بکر البغدادی کا واحد اعلانیہ ظہور ہوا تھا۔

مسجد النوری کا نام شام کو یکجا کرنے والے سلطان نور الدین زنگی کے نام سے منسوب ہے۔ زنگی نے ایک عرصہ موصل پر بھی حکومت کی اور 1172ء میں اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ یہ مسجد تباہ ہو گئی تھی اور 1942ء میں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ الحدباء مینار وہ واحد حصّہ ہے جو مسجد کی اصل تعمیر کی باقیات میں سے ہے۔

عراق میں یونسیکو تنظیم کی نمائندہ لوئز یکستٹوزن نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "تعمیر نو کے منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے اور اب اس کے اطراف باڑھ لگا دی گئی ہے تا کہ تاریخی ورثے کو مزید کسی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "سب سے پہلے مسجد کو دھماکا خیز مواد سے پاک کرنا ہو گا اور پھر ملبے کو ہٹا کر مسجد اور مینار کی تعمیر شروع ہو گی"۔

عراق نے گزشتہ برس داعش کے خلاف نو ماہ تک جاری رہنے والی خون ریز لڑائی کے بعد جولائی 2017ء میں موصل شہر کا کنٹرول واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں