.

دمشق کے جنوب میں شامی فوج اور داعش کے درمیان گھمسان کی لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع علاقے میں اسدی فوج اور اس کے اتحادیوں کی داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی ہورہی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق اور شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے فریقین میں ہفتے کے روز شدید لڑائی کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ اس میں توپ خانے اور ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژ ن نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی فوج نے دمشق کے جنوب میں واقع علاقے القدم اور الحجر الاسود میں داعش کے خلاف لڑائی میں نمایاں پیش قدمی کی ہے جبکہ رصد گاہ کی اطلاع کے مطابق شامی فوج نے گنجان آباد علاقے میں واقع بہت سی عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی نے القدم ، الحجر الاسود اور فلسطینی مہاجرین کے کیمپ الیرموک پر مشتمل اس علاقے کے ایک کنارے میں واقع کھلے میدانوں میں شامی فوج کے ٹینکوں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

اس نے باوردی فوجیوں کو سیاہ دھویں کے سائے میں شاہراہو ں اور گلیوں میں آگے بڑھتے ہوئے دکھایا ہے جبکہ توپ خانے کی گولہ باری ، ہلکے ہتھیاروں کی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں ۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو گذشتہ سال شام میں اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقوں سے محروم ہو چکے ہیں ۔ایک جانب شامی فوج نے روس اور ایران کی مدد سے ان کے خلاف لڑائی میں نمایاں پیش قدمی کی ہے اور بازیاب کرائے گئے علاقوں میں دوبارہ اپنی عمل داری قائم کر لی ہے۔دوسری جانب سے کرد اور عرب ملیشیاؤں پر مشتمل اتحاد شامی جمہوری فورسز نے داعش کے خلاف امریکا کی زمینی اور فضائی فوجی مدد کی بدولت نمایاں پیش قدمی کی ہے۔

اب شام کے مشرق میں بعض صحرائی علاقے اور دمشق کے جنوب میں واقع مذکورہ علاقے ہی داعش کے جنگجوؤں کے زیر قبضہ رہ گئے ہیں ۔ان کے علاوہ اردن اور اسرائیل کے ساتھ واقع شام کے سرحدی علاقےمیں داعش سے وابستہ ایک گروپ کے زیر قبضہ تھوڑا سا علاقہ رہ گیا ہے۔