غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام، ترکی اور اسرائیل میں سفارتی کشیدگی

دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے سفیروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں نہتے فلسطینی مظاہرین کے وحشیانہ قتل عام کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارت تعلقات ایک بار پھر کشیدگی ہو گئے ہیں۔ دونوں ملکوں نے غزہ میں قتل عام پر ایک دوسرے پر نکتہ چینی کے بعد ایک دوسرے کے سفیروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں درجنوں فلسطینیوں کی ہلاکت ’’نسل کشی‘‘ ہے جس پر اسرائیل نے ترکی کے سفیرکے ملک بدری کے احکامات جاری کر دیئے۔ اس کے فوری ردعمل میں ترکی نے بھی اسرائیلی سفیر کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔

ترک صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو نسل پرست ریاست کا سربراہ قرار دیا اور کہا کہ نیتن یاھو کے ہاتھوں بے گناہ فلسطینیوں کے خون سے رنگین ہیں۔

قبل ازیں ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے صہیونی ریاست کو فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام کی ذمہ دار قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ سوموار کے روز غزہ کی پٹی میں حق واپسی کے لئے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 61 فلسطینی شہید اور تین ہزار کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں