مکّہ گیٹ وے کی ڈیزائننگ کرنے والا سعودی فن کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ سے مکہ مکرمہ کا رخ کیا جائے تو دنیا کے مقدس ترین شہر سے تقریبا 5 کلومیٹر قبل "مکّہ گیٹ وے" واقع ہے۔ یہ مرکزی دروازہ پورے سال حرم مکی کا رخ کرنے والے کروڑوں زائرین کی توجہ کا مرکز بنتا ہے اور اپنے اندر جدّت و جمال کی منفرد مہک رکھتا ہے۔

"مکّہ گیٹ وے" کو جس کو بہت سے لوگ "قرآن گیٹ وے" کے نام سے بھی پکارتے ہیں سعودی ویژوئل آرٹسٹ ضیاء عزیز نے 1405 ہجری میں ڈیزائن کیا۔ منصوبے کا رقبہ 4712 مربع میٹر ہے جس پر اُس وقت 4.6 کروڑ ریال لاگت آئی۔ مضبوط کنکریٹ سے بنائے گئے اس مجسّم شاہکار کی لمبائی 152 میٹر اور چوڑائی 31 میٹر ہے۔

سعودی فن کار ضیاء عزیز نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ شاہ کار اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ آنے والوں اور یہاں سے کوچ کرنے والوں سب کو قرآن گیٹ وے ایک انداز سے نظر آتا ہے۔

ضیاء عزیز صرف ڈیزائننگ اور مصوری کی صلاحیت سے لطف اندوز نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے زندگی کے ابتدائی دور میں موسیقی کے کئی آلات پر دُھنیں بکھیریں۔ پندرہ برس کی عمر میں ان کے اندر مصوری اور ویژوئل آرٹس کی صلاحیت سامنے آئی۔

سعودی فن کار نے حجاز میں مقامی ماحولیات سے متاثرہ ہو کر متعدد فن پارے تیار کیے جو ان کے کام کا بنیادی موضوع بنے۔ انہوں نے پرانے زمانے کے گھروں کی سماجی اور روز مرہ زندگی کی تفصیلات کو اجاگر کیا۔

ضیاء عزیز نے لکڑی پر نقّاشی کی جانب بھی توجہ دی اور اس کو انسانی معاملات پیش کرنے کا ذریعہ بنایا۔

سعودی فن کار نے ثقافت اور ادب سے شغف رکھنے والے گھرانے میں پرورش پائی اور کم عمری سے ہی مختلف قسم کے فنون سے واسطہ رہا۔ ان کی والدہ گھر میں تکیوں اور گدّوں کی تزئین و آرائش کے لیے کشیدہ کاری کرتی تھیں۔ دوسری جانب ان کے والد ایک ادیب تھے۔ اس امر نے ضیاء عزیز کو مختلف میدانوں کے فنّی ذائقے سے آشنا کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں