.

غزہ میں قتل عام کی تحقیقات کی حمایت پر اسرائیل کا یورپ سے احتجاج

تل ابیب میں متعین یورپی ممالک کے سفیروں کی اسرائیلی وزارت خارجہ میں طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ذریعے فلسطین کے علاقے غزہ میں نہتے 118 فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کی حمایت پر اسرائیل نے سخت احتجاج کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے تل ابیب میں متعین یورپی ملکوں اسپین، سلوینیا اور بیلجیئم کے سفیروں کو طلب کیا اور غزہ میں مظاہرین کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کی حمایت پر ان سے سخت احتجاج کیا گیا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق مغربی یورپ کے امور کے معاون نے بیلجیئم، سلوینیا اور اسپین کے سفیروں کو طلب کر کے ان سے سخت احتجاج کیا ہے۔

خیال رہے کہ تین روز قبل جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ کی مشرقی سرحد پر وطن واپسی کے لیے احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ قرارداد کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی جس پر اسرائیل نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔

تیس مارچ سے مشرقی غزہ میں ہزاروں فلسطینی سنہ 1948ء کی جنگ میں نکالے گئے علاقوں میں واپس جانے کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا اندھا دھند استعمال کر رہی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 118 فلسطینی شہری شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 62 فلسطینی صرف 14 مئی کی تاریخ کو شہید کیے گئے۔ اس روز فلسطینی صہیونی ریاست کے ناجائز تسلط کے 70 برس پورے ہونے اور امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے حوالے سے احتجاج کر رہے تھے۔