سعودی عرب میں انسداد ہراسیت کا نظام کب سے کام شروع کرے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی وزارت داخلہ کے سکیورٹی ترجمان اور میڈیا افیئرز کی عام انتظامیہ کے ڈائریکٹر بریگڈیئر جنرل منصور الترکی نے جمعرات کے روز دارالحکومت ریاض میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ اس پریس کانفرنس میں ہراسیت کے جرم کے انسداد کے لیے وضع کردہ نظام کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ سعودی کابینہ نے گزشتہ ہفتے اس نظام کی منظوری دی تھی۔

منصور الترکی کے مطابق ہراسیت کا عمل اسلامی شریعت کے مطابق سعودی عرب میں ایک جرم شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے انسداد کا نظام آئندہ چند روز کے دوران ریاست کے سرکاری اخبار میں شائع ہونے کے فوری بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے تیار کردہ نیا نظام 8 شقوں پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد ہراسیت کے جرم کا انسداد، اس کے مرتکب افراد کے خلاف سزا کا نفاذ اور متاثرہ افراد کا تحفظ اور ان کی خلوت ، عزت نفس اور شخصی آزادی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

الترکی نے واضح کیا کہ یہ نظام مقامات عامہ، اسکولوں، گھروں اور سوشل میڈیا پر ہراسیت کے جرائم کے انسداد کو ممکن بنائے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ سرکاری اور نجی سیکٹروں کو ہراسیت کے جرم کے انسداد کے واسطے اقدامات وضع کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے سکیورٹی ترجمان کے مطابق یہ نیا نظام سعودی ویژن 2030 کی تکمیل کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اس موقع پر مملکت میں جنرل سکیورٹی میں انفارمیشن کرائمز کی انتظامیہ کے سربراہ کرنل عبدالعزیز الحسن نے واضح کیا کہ سکیورٹی حکام ہراسیت کے جرم سے متعلق اطلاعات کے ساتھ پیشہ ورانہ طور پر نمٹ رہے ہیں اور کسی بھی قسم کا قدم اٹھانے سے پہلے اطلاع کے مستند اور درست ہونے کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہراسیت کے جرم کا نشانہ بننے والے یا اس پر آگاہ ہونے والے تمام افراد رابطوں کے ذرائع کو اپنا کر متعلقہ معلومات سکیورٹی حکام تک پہنچائیں۔ یہ کام "كلنا أمن" موبائل ایپلی کیشن یا ان فون نمبروں (999 ، 911 اور 996) کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

کرنل الحسن کے مطابق انفارمیشن کرائمز کے انسداد کی انتظامیہ کے پاس انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کے استحصال کے انسداد کا ایک شعبہ ہے۔ اس کا مقصد بچوں اور کم عمر افراد سے متعلق تمام امور کو دیکھنا ہے۔

وزارت داخلہ میں میڈیا سینٹر کے ڈائریکٹر میجر طلال الشلہوب نے انسداد حراسیت کے نظام کی تفصیلات کا جائزہ پیش کیا۔ قانون کے تحت ہراسیت کے جرم کے ارتکاب پر ملنے والی سزا دو سال جیل اور ایک لاکھ ریال جرمانہ یا دونوں میں کوئی ایک ہو سکتی ہے۔ قید کی سزا زیادہ سے زیادہ پانچ برس تک بڑھائی جا سکتی ہے اور جرمانے کی رقم تین لاکھ ریال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ ہراسیت پر اکسانے ، اس پر متفق ہونے یا کسی بھی صورت میں ارتکاب میں مدد کرنے پر بھی مقررہ سزا کا نفاذ ہو گا۔

ہراسیت کے کسی بھی ارتکاب سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کی شناخت کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جائے گا اور اس کا شکار ہونے والے کی شناخت کسی بھی صورت میں ظاہر نہیں کی جائے گی سوائے اُس وقت جب کہ تحقیق یا عدالتی کارروائی میں اس کی ضرورت پیش آئے۔

ادھر سرکاری سیکٹر میں متعلقہ اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہراسیت سے تحفظ کے لیے مطلوبہ اقدامات کریں۔ ساتھ ہی اس حوالے سے شکایت وصول کرنے کا طریقہ کار وضع کرنے اور اور شکایت کے مستند اور درست ہونے کی جانچ کو یقینی بنائیں۔

یاد رہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزارت داخلہ کو اس نظام کی تیاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں تا کہ معاشرے اور افراد کو اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں