روس کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور درعا پر بم باری
روس نے ہفتے کی شب رات گئے جنوبی شام میں اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد السوری کے مطابق تقریبا ایک برس قبل اس علاقے میں فائر بندی پر آمادگی کے بعد روس کی جانب سے یہ خلاف ورزی کا پہلا واقعہ ہے۔
المرصد کا کہنا ہے کہ روسی طیاروں نے درعا کے مشرق میں دیہی علاقے میں کئی قصبوں پر 25 سے زیادہ فضائی حملے کیے۔ البتہ المرصد جانی نقصان کے حوالے سے معلومات حاصل نہ کر سکا۔
یاد رہے کہ جنوبی شام میں درعا، قنیطرہ اور سویداء صوبے کے بعض حصّے اُن سیف زونز میں سے ایک زون کا جُزو ہیں جو آستانہ بات چیت کے نتیجے میں سامنے آئے تھے۔ روس، امریکا اور اردن نے گزشتہ برس جولائی میں مذکورہ علاقوں میں فائر بندی پر اتفاق رائے کیا تھا۔
المرصد نے جمعرات کے روز ایک اعلان میں بتایا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران درعا صوبے میں شامی حکومت کی بم باری کے سبب 12 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے مطابق شامی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملوں کے سبب علاقے میں موجود 7.5 لاکھ سے زیادہ افراد کی جانوں کو خطرہ ہے۔
درعا کے 70% علاقے پر شامی اپوزیشن کے مختلف گروپوں کا کنٹرول ہے جب کہ داعش تنظیم نے اپنا واجبی سا وجود برقرار رکھا ہوا ہے۔
-
اقوام متحدہ کا شام کے شہر درعا پر فوری طور پر بم باری روکنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے شام کے جنوب مغرب میں عسکری جارحیت کو ...
مشرق وسطی -
تمام فریق جنوبی شام میں سیز فائر کی پابندی کریں: امریکا
’’درعا سے جنگ بندی معاہدے کی متضاد اطلاعات آ رہی ہیں‘‘
مشرق وسطی -
درعا سے فوجی کمک شامی فوج کی مدد کے لیے الغوطہ روانہ
#شام کے صدر مقام #دمشق کے نواحی علاقے #الغوطہ میں حکومت مخالف باغیوں کے مسلسل ...
مشرق وسطی