شامی باغیوں کی جنوبی صوبے درعا میں جنگ بندی کے لیے روس سے بات چیت ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی باغیوں کی جنوبی صوبے درعا میں جنگ بندی اور اپنے زیر قبضہ علاقے حوالے کرنے کے لیے صدر بشارالاسد کے اتحادی روس کے حکام سے بات چیت ناکام ہوگئی ہے۔باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بھاری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا ہے۔

جنوبی شام میں باغیوں کے سنٹرل آپریشنز روم نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ بصریٰ الشام میں روسی دشمن کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔انھوں (روسیوں ) نے ہماری بھاری ہتھیاروں سے دستبردار ی پر اصرار جاری رکھا تھا‘‘۔

باغیوں کے ترجمان ابراہیم جباوی نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ مذاکرات کے اس دور میں کوئی نتائج برآمد نہیں ہوسکے اور مستقبل میں کسی اور ملاقات کا بھی کوئی وقت طے نہیں ہوا ہے‘‘۔

قبل ازیں اردنی وزیر خارجہ ایمن صفادی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ماسکو میں بات چیت کے بعد کہا تھا کہ جنوبی شام میں جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات ان کی ترجیح ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ شام کے اس جنگ زدہ علاقے میں انسانی بحران رونما ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ شامی فوج درعا میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر 19 جون سے فضائی حملے کررہی ہے ۔اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے 23 جون کو اس علاقے میں اس سال میں پہلا فضائی حملہ کیا تھا۔ان کے فضائی حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں ۔

روس ، امریکا اور اردن نے گذشتہ سال جولائی میں شام کے جنوب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو غیر جنگی زون قرار دینے سے اتفاق کیا تھا۔اس کے بعد سے روس کے لڑاکا طیاروں نے باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے نہیں کیے تھے مگر اب وہ بھی شامی فوج کے ساتھ باغیوں کے زیر قبضہ شہری علاقوں پر تباہ کن بمباری کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں