.

دیر الزور میں ’داعش’ مخالف اتحاد کا مبینہ حملہ،54 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر دیر الزور میں ایک تازہ فضائی حملے کے نتیجے میں کم سےکم 54 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق شدت پسند گروپ ’داعش‘ کی سرکوبی کے لیے امریکا کی قیادت میں سرگرم اتحاد نے ایک بیان میں عندیہ دیا ہے کہ دیر الزور میں جمعرات کی شام یہ حملہ اتحادی فوج یا اس کی کسی حلیف فورس نے کیا ہے۔

انسانی حقوق گروپ ’سیرین آبزر ویٹری‘ کے مطابق جمعرات کو دیر الزور میں کیے گئے حملے کے نتیجے میں دسیوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق فضائی حملے کے نتیجے میں 28 عام شہری اور دیگر داعش کے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھرشام میں اتحادی فوج کے ترجمان کرنل شون رایان نے جمعہ کو ’رائٹرز‘ کو بھیجی ایک ای میل میں بتایا کہ دیر الزور کے نواحی علاقوں السوسہ اور الباغاغوز فوقانی میں داعش کے خلاف حملہ ممکنہ طورپر اتحادی فوج یا اس کے کسی حلیف کی طرف سے کیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ وہ دیر الزور میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور جنگجوؤں کو پہنچنے والے نقصان کی تحقیقات کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے پاس مصدقہ معلومات نہیں۔ اہم شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے اتحاد کے سول متاثرین سیل میں جلد ایک رپورٹ پیش کی جائے گی۔

درایں اثناء انسانی حقوق آبزر ور رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ عراق کی سرحد سے متصل علاقے دیر الزور میں السوسہ کے مقام پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اپریل میں عراقی فوج نے شام کی سرحد کے اندر داعش کے زیرانتظام ٹھکانوں پر بمباری کی تھی جس میں داعش کو کافی نقصان پہنچنے کی اطلاعات آئی تھیں۔

داعش کے خلاف شام میں قائم عالمی اتحاد کے حامیوں میں کرد اور عرب باشندوں پر مشتمل ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ پیش پیش ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2014ء کو ’داعش‘ نے عراق اور شام کے وسیع رقبے پر ڈرامائی انداز میں قبضہ کرنے کے بعد اپنی ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ سنہ 2017ء کو عراق نے اپنے ہاں داعش کے زیرقبضہ تمام علاقے آزاد کرالیے تھے۔