.

غزہ کشیدگی کے بعد مصری ثالثی سے فلسطینی تنظیموں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران جھڑپوں کے بعد فریقین مصر کی ثالثی کے تحت جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد نے غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔ اسلامی جہاد کا کہناہے کہ فریقین میں جنگ بندی مصر کی کوششوں سے عمل میں آئی ہے۔

اسلامی جہاد کے ترجمان داؤد شہاب نے بتایا کہ ہفتے کے روز مصری حکام کے ساتھ مسلسل رابطوں کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مصر نے سنہ 2014ء کے جنگ بندی معاہدے کو فعال رکھنے کے لیے دونوں فریقوں پر دباؤ ڈالا۔ نیز معاہدے میں علاقائی اور عالمی قوتوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔

مصری رکن پارلیمنٹ محمد حمزہ نے ’الحدث‘ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے مصر کی تجاویز قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فریقین میں جنگ بندی پر عمل درآمد چند گھنٹوں کے اندر اندر شروع ہو جائے گا۔

درایں اثناء اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے بھی ایک بیان میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی خبروں کی تصدیق کی ہے۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر کئی مقامات پر شدید بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں دو بچے شہید اور ایک درجن شہری زخمی ہوگئے تھے۔ فلسطینی مزاحمت کاروں کی طرف سے اسرائیلی بمباری کے جواب میں راکٹوں سے حملے کیے گئے۔