تصاویر کے آئینے میں : زرعی پیداوار سے بھرپور سعودی عرب کا ضلع بیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کا ضلع بیشہ زرعی پیداوار سے بھرپور اپنی مختلف وادیوں کے سبب شہرت کا حامل ہے۔ ان میں بالخصوص کھجور کے درخت ، لیموں اور انگور شامل ہیں۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق بیشہ میں بیری، کیکر، ببول، پِیلو، مرخ، کریل اور جھاؤ کے درخت اور پودے بھی پھیلے نظر آتے ہیں۔

بیشہ کا ضلع سعودی عرب کے جنوب مغربی حصّے میں اپنی زرخیز اراضی کے سبب جانا جاتا ہے۔ بیشہ کے بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ درجنوں وادیاں واقع ہیں جن میں کھجور کے درختوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ یہاں کی مشہور وادیوں میں ودای بیشہ، وادی ترج، وادی تبالہ اور وادی ہرجاب شامل ہیں۔

سعودی عرب میں حالیہ عرصے میں دیکھی جانے والی زرعی ترقی کے دوران زراعت کے جنرل ڈائرکٹریٹ کی جانب سے سینئر اور بڑے کاشت کاروں کے ساتھ مل کر کھجور کے درخت کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

بیشہ ضلعے میں وزارت ماحولیات کی شاخ کے ڈائریکٹر انجینئر سالم القرنی کے مطابق بیشہ اپنے مختلف نوعیت کے درختوں کے سبب مشہور ہے جو اس کی وادیوں کے اطراف پھیلے ہوئے ہیں اور وادیوں کے گلے میں منفرد ہار کی مانند نظر آتے ہیں۔

بیشہ کا ضلع بارش کے پانی پر انحصار کرتا ہے۔ اسی واسطے وزارت ماحولیات اور زراعت نے یہاں چار مرکزی ڈیم بنائے ہیں تا کہ پانی کی مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بیشہ کا ضلع بہت سی پیداوار میں مقامی منڈیوں کو سپورٹ کرتا ہے جس کے نتیجے میں ان اشیاء کی قیمتیں بڑی حد تک کنٹرول میں رہتی ہیں۔ ان پیداوار میں کھجوریں، شہد اور رس دار تُرش پھل وغیرہ شامل ہیں۔

بیشہ میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ کھجور کی پیداوار کے شعبے کو سرمایہ کاری کے لیے پر کشش بنایا جائے۔ اس واسطے الصفری فیسٹول کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کھجور کی عالمی کانفرنس میں بیشہ ضلعے کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب کا یہ ضلع ایسی نادر نوعیت کی پیداوار کا حامل ہے جس کو بڑے پیمانے پر برآمد کیا جا سکتا ہے۔

الصفری فیسٹول میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بیشہ ضلعے میں کھجور کے 19 لاکھ سے زیادہ درخت ہیں جو بڑی مقدار میں کھجور کی پیداوار کی قدرت رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں