.

’صدی کا چاند گرہن‘ دنیا بھر میں دیکھا گیا، سعودیہ کی فضا غبار آلود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ شب رواں صدی کا سب سے بڑا چاند گرہن دنیا کے کئی براعظموں میں دیکھا گیا۔ چاند گرہن آہستہ آہستہ شروع ہوا جو مختلف ملکوں میں مختلف دورانیے تک جاری رہا۔ اسے اکیسویں صدی کا سب سے طویل چاندگرہن قرار دیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سرخ اور سیاہ چاند کے مناظر افریقا کے راس رجاء الصالح سے مشرق وسطیٰ تک اور روس سے آسٹریلیا کی سڈنی بندرگاہ تک کروڑوں لوگوں نے دیکھے۔ بعض خِطوں میں چاند کا رنگ نارنجی، بعض مقامات پر بھورا اور کچھ جگہوں پر سرخ دکھائی اور سیاہ دیا۔

سعودی عرب میں چاند گرہن کے مناظرکے وقت فضاء کو گرد وغبار نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق مکمل چاند گرہن 20:22 پر ہوا۔ تاہم یورپ، روس، افریقا، مشرق وسطیٰ، ایشیا اور آسٹریلیا میں بادلوں میں گھس جانے کے باوجود چاند گرہن کے مناظر دیکھے گئے۔

خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب دیکھا جانے والا چاند گرہن صدی کا طویل ترین گرہن ہے جو تین مراحل میں جزوی، کلی اور پھر جزوی طورپر دیکھا گیا۔ مجموعی طورپر چاند گرہن کا دورانیہ چار گھنٹے تھا مگر مکمل چاند گرہن 43 منٹ تک رہا۔