.

شام : داعش نے السویدہ پر حملے کے بعد 36 عورتوں اور بچوں کو اغوا کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام کے جنوبی صوبے السویدہ کے دارالحکومت اور مختلف دیہات پر گذشتہ ہفتے حملے کرکے چھتیس عورتوں اور بچوں کو اغو ا کر لیا ہے۔

داعش نے گذشتہ بدھ کو صوبائی دارالحکومت السویدہ شہر اور اس کے شمال اور مغرب میں واقع متعدد دیہات میں خودکش بم حملے کیے تھے اور فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے سوموار کو اطلاع دی ہےکہ ان حملوں کے بعد داعش کے جنگجوؤں نے دروز فرقے سے تعلق رکھنے والی چھتیس عورتوں اور بچوں کو اغوا کر لیا تھا۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ان میں سے چار عورتیں داعش کی حراست سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور دو ہلاک ہوگئی ہیں۔داعش نے جن دیہات پر حملہ کیا تھا،وہاں سے تعلق رکھنے والے سترہ مرد ابھی تک لاپتا ہیں ۔البتہ ان کے بارے میں یہ واضح نہیں کہ انھیں داعش نے اغوا کیا ہے یا وہ کہیں اور چلے گئے ہیں۔

رصدگاہ اور شامی نیوز نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ داعش نے بیس عورتوں اور سولہ بچوں کو اغو اکیا تھا۔تاہم داعش نے ابھی تک ان کے اغوا کی ذمے داری قبول کی ہے اور نہ اس کے پروپیگنڈا چینلز سے ان افراد کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ شامی فوج کی روسی فضائیہ کی مدد سے کارروائی کے بعد داعش شام میں اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقے کھو چکے ہیں۔ البتہ شام کے دور دراز صحرا میں بعض علاقوں پر اس جنگجو گروپ کا قبضہ برقرار ہے۔ان میں السویدہ کے شمال مشرقی حصے میں واقع دیہات ،اس سے متصل صوبہ درعا کے علاقے اور اس سے مزید مشرق میں عراق کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے شامل ہیں۔

شامی فوج گذشتہ ایک ہفتے سے روسی فضائیہ کی مدد سے درعا میں داعش کے زیر قبضہ رہ جانے والے چند ایک علاقوں میں کارروائی کررہی ہے۔السویدہ کے بیشتر علاقوں پر اس وقت شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا کنٹرول ہے اور یہاں زیادہ تر دروز اقلیت کے لوگ آباد ہیں۔

شام میں گذشتہ سات سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں اس صوبے میں تشدد کے کوئی زیادہ واقعات پیش نہیں آئے۔ تاہم گذشتہ ہفتے اس صوبے میں داعش کے حملے سب سے خونریز ثابت ہوئے ہیں اور یہ شام میں بھی اس سخت گیر جنگجو گروپ کے تباہ کن حملے تھے جن میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہو اہے۔