غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش میں گرفتار 7 سویڈش کارکن بے دخل
رضاکاروں کی گرفتاری، اسرائیل کی عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے:سویڈن
اسرائیل نے سویڈن کے ان سات امدادی کارکنوں کو ملک سے بے دخل کر دیا ہے جنہیں چند روز قبل محصور فلسطینی علاقے غزہ کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا تھا۔
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق امدادی جہاز کے ترجمان ڈرور فیلرنے بتایا کہ اسرائیلی پولیس کی تحویل سے رہائی پانے والے سات میں سے چار سویڈش رضاکار وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں جب کہ دیگر کارکن جلد ہی سویڈن روانہ ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے گذشتہ جمعہ کو رات گئے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے آنے والے امدادی جہاز ’فریڈم فار غزہ‘ کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں کھلے سمندر میں روک لیا تھا جس کے بعد امدادی جہاز کا سامان لوٹ لیا گیا اور اس پر سوار غیرملکی امدادی کارکنوں کو یرغمال بنا کر اشدود بندرگاہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
مسٹر فیلر نے بتایا کہ جہاز پر عملے سمیت سویڈن کے 12 افراد سوار تھے جب کہ اسپین، کینیڈا، جرمنی اور فرانس کےرضاکار بھی شامل تھے۔
بدھ کو سویڈن کی خاتون وزیر خارجہ مارگون ولسٹروم نے کہا کہ محصورین غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے جہاز کو روکنا اور امدادی کارکنوں کو حراست میں رکھنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے گرفتار کیے گئے تمام امدادی کارکنوں کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔