.

امریکی فنڈز کے انجماد کے باوجود اُنروا کے تحت فلسطینی اسکول بروقت دوبارہ کھلیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی اُنروا کے زیرانتظام سیکڑوں اسکول فنڈز کی عارضی طور پر دستیابی کے بعد بروقت کھلیں گے۔امریکا کی جانب سے فنڈز منجمد کیے جانے کے بعد اُنروا مالی بحران سے دوچار ہوگئی تھی۔

انروا نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں ، اردن ، شام اور لبنان میں تمام 711 اسکول نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بروقت کھل جائیں گے، ان اسکولوں میں پانچ لاکھ 26 ہزار سے زیادہ فلسطینی بچے مختلف درجوں میں زیر تعلیم ہیں ۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں کے لیے کام کرنے والے اداروں کی امداد روک لی تھی جس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس اور دوسرے عہدے داروں نے خبردار کیا تھا کہ فنڈز کی کمی کے پیش نظر اُنروا کے زیر انتظام اسکول شاید دوبارہ نہ کھل سکیں ۔

اقوام متحدہ ریلیف اور ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (اُنروا) کا کہنا ہے کہ وہ اس سال کے آغاز کے بعد سے 23 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کے اضافی فنڈز کے حصول میں کامیاب ہوگئی ہے لیکن اس نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ فی الوقت اس کے پاس صرف ماہ ستمبر میں اپنی خدمات مہیا کرنے کے لیے نقدی دستیاب ہے۔

اس ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں مزید 21 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی ضرورت ہوگی تاکہ اس کے زیر انتظام اسکول اس سال کے آخر تک کھلے رہیں اور ان میں تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رہیں‘‘۔ یہ اسکول 29 اگست اور 2 ستمبر کے درمیان کھلیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے انروا کے 30 کروڑ ڈالرز کے امداد ی فنڈز منجمد کرلیے تھے۔ اس کے بعد سے دوسرے ممالک نے انروا کو اضافی رقوم مہیا کی ہیں لیکن اس ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ اس کی امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے ناکافی ہیں۔

یہ ایجنسی مشرقِ اوسط بھر میں تیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی مہاجرین اور ان کے خاندانوں کو امدادی خدمات مہیا کرتی ہے۔اس کے ملازمین کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ ہے اور ان میں کی اکثریت فلسطینیوں ہی کی ہے۔

انروا نے گذشتہ ماہ فلسطینی علاقوں میں فنڈز کے بحران کے پیش نظر ڈھائی سو اسامیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔یادرہے کہ انروا کا 1948ء کی جنگ کے بعد قیام عمل میں لایا گیا تھا۔اس جنگ کے دوران میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی ریاست قائم کی گئی تھی اور انتہا پسند یہود کے جتھوں اور ملیشیاؤں کے حملوں کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور آبائی علاقوں سے نکا ل باہر کیا گیا تھا۔ تب سے یہ فلسطینی مہاجرین اور ان کی آل اولاد مہاجرت کی زندگی بسر کررہی ہے اور ان کی گزر بسر کا انحصار انروا یا دوسری عالمی ایجنسیوں سے ملنے والی امداد پر ہے ۔