.

غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج پر مظاہرین پر حملہ، 190 فلسطینی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر ’حق واپسی‘ مارچ کے دوران اسرائیلی فوج کی پرامن فلسطینیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم 190 شہری زخمی ہوگئے۔

غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز آنسو گیس شیل فائر کئے جس سے 189 فلسطینی زخمی ہوئے۔ 10 فلسطینی شہری براہ راست گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ ان میں دو بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔

غزہ کی سرحد پر لگائی گئی اسرائیلی سرحدی باڑ کے قریب 22 جُمعہ کو فلسطینیوں نے حق واپسی کے لیے مظاہرہ کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق فلسطینیوں کی بڑی تعداد نےغزہ کی مشرقی سرحد پر اسرائیلی فوج کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی۔

خیال رہے کہ فلسطینی شہری 30 مارچ 2018ء کے بعد سے غزہ کی مشرقی سرحد پر ہر جمعہ کو احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔ فلسطینی مظاہرین کے پرامن ہونے کے باوجود اسرائیلی فوج ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرتی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 170 فلسطینی شہید اور 18 ہزار سے زاید زخمی ہو چکے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق جمعہ کے روز فلسطینیوں نے اسرائیلی ریاست کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا مگر اس موقع پر کوئی آتش گیر کاغذی جہاز یا گرم ہوا غبارہ اسرائیل کی طرف نہیں اچھالا گیا جب کہ اس سے قبل فلسطین اسرائیل سرحدی علاقوں میں گیسی غبارے اور آتش گیر جہاز ڈراپنگ کے ذریعے آگ لگا دیتے تھے جس پر اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف سخت غم وغصہ ہے۔

اس موقع پر حماس کے مقامی رہ نما خلیل الحیہ نے کہا کہ غزہ کی سرحد پر فلسطینی مظاہرین کا پرامن احتجاج قاہرہ میں جاری جنگ بندی بات چیت کو کامیاب کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ جماعت کی قیادت اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ذمہ داران کل اتوار اور سوموار کے روز قاہرہ میں اسرائیل کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی اور آپس میں مصالحتی عمل پر بات چیت کریں گے۔