.

بصرہ : عراقی فوج کے مقابلے کے لیے قبائلی عناصر ہتھیار اٹھانے کے درپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں فوج کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کرنے کے اقدام کے بعد ،،، مظاہروں کے دوران کشیدگی حد درجہ بڑھ چکی ہے اور احتجاج کرنے والوں اور عراقی سکیورٹی فورسز کے درمیان مسلح تصادم کی نوبت آ پہنچی ہے۔

بصرہ میں مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ عراقی فوج اور ریپڈ انٹروینشن فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے واسطے براہ راست فائرنگ کا استعمال کیا اور احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ بصرہ کے قبائل نے صوبے کے آپریشنز کمانڈر کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال جاری رکھا تو قبائل ہتھیار اٹھا کر مزاحمت شروع کر دیں گے۔

ذرائع کے مطابق بصرہ صوبے میں کرمہ علی، الحیانیہ اور خمس میل کے علاقوں میں صوبے کے دیگر علاقوں کی نسبت صورت حال بدترین تھی۔ ان علاقوں کے لوگوں نے ہتھیار اٹھا لیے جس کے نتیجے میں عراقی فوج یہاں سے چلی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بصرہ میں آپریشنز کمانڈر نے بغداد کو ایک ہنگامی پیغام بھیجا ہے جس میں اضافی فورسز ارسال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تا کہ صوبے میں امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

بصرہ صوبے میں گزشتہ چار راتوں سے سڑکوں پر ٹائر جلانے اور مخلتف علاقوں میں دھرنا کیمپ لگائے جانے کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں

یاد رہے کہ بصرہ صوبے میں گزشتہ ہفتے آلودہ پانی کے سبب 20 ہزار سے زیادہ شہری زہر خوانی کا شکار ہو گئے تھے۔

عراق میں انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق ہسپتالوں میں ادویات، علاج کی سہولتوں، طبّی تربیت یافتہ عملے اور نرسنگ اسٹاف کی شدید کمی دیکھی جا رہی ہے۔