سعودی شہر الظہران میں زلزلہ کیوں آیا؟ سبب جانئے
سعودی عرب میں ارضیاتی سائنس کونسل کے چیئرمین اور زلزلہ مطالعاتی مرکز کے سپروائزر ڈاکٹرعبداللہ العمری نے کہا ہے کہ جنوبی علاقےالظہران میں زلزلوں کا آنا ایک فطری امر ہے۔
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے عمارتوں کی تعمیر میں احتیاط برتنے اور انہیں زلزلہ پروف بنانے پر زور دیا۔
العمری نے بتایا کہ گذشتہ روز مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے سعودی عرب کی سرحد پر شمال مغربی یمن میں چار درجے کی شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلے کا مرکز سعودی عرب کے جنوبی علاقے الظہران اور یمن کے صعدہ شہر کے درمیان گہرائی میں تھا۔
ماہر ارضیات کا کہنا تھا کہ جنوبی سعودی عرب زلزلوں کے حوالے سے مشہورہے جہاں اکثر زلزلے آتے ہیں۔ سنہ 1982ء میں الزمار میں آنے والے خوف ناک زلزلے کے نتیجے میں 3 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
اُنہوں نے بتایا کہ چونکہ اس علاقے میں آتش فشاں چٹانوں ،عرب شیلڈ پر مُشتمل ہے اور اس کے مغرب میں فیفا کے پہاڑی سلسلے واقعے ہیں۔ بحر احمر میں یہ آپس میں کہیں کہیں سے ملے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں زیرزمین ہونے والے زلزلے کو زمین کی سطح پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔