.

ریاستِ فلسطین کا امریکی سفارت خانہ کی یروشلیم منتقلی کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ریاستِ فلسطین نے عالمی عدالت ِ انصاف سے امریکا کے خلاف اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے خلاف ایک شکایت دائر کی ہے اور اس میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی ایک بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس کو وہاں سے ہٹایا جانا چاہیے۔

نیدر لینڈ ز کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف ( آئی سی جے) نے ایک بیان میں فلسطین کی یہ درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے ۔فلسطین نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ 1967 ءکے ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت ایک ملک کو میزبان ریاست کے علاقے میں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنا چاہیے۔ القدس ( یروشلیم) پر اس نے فوجی قبضہ کررکھا ہے جبکہ اس کی ملکیت متنازعہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2017ء میں اپنے ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور مئی میں امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ منتقل کردیا تھا۔

فلسطین نے عالمی عدالتِ انصاف سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ امریکا کو مقبوضہ بیت المقدس سے اپنا سفارت خانہ ختم کرنے اور اس کو دوبارہ اسرائیلی ریاست کے علاقے میں منتقل کرنے کا حکم دے۔

اقوام متحدہ کے تحت عالمی عدالت انصاف اقوام کے درمیان تنازعات کے تصفیے کی ذمے دار ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2012ء میں فلسطین کو غیررکن مبصر ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لیا تھا لیکن امریکا اور اسرائیل اس کے اس ریاستی درجے کو بھی تسلیم نہیں کرتے ہیں ۔