ٹرمپ کے مجوزہ امن پلان کے بارے میں کوئی علم نہیں: فلسطین
فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیر عہدیدار اور صدر محمود عباس کے مشیر ڈاکٹر محمود الھباش نے کہا ہے کہ فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے حل کے حوالے سے وہ امریکی امن منصوبے کا تذکرہ صرف ذرائع ابلاغ میں سن رہےہیں۔ انہیں امریکا کی طرف سے اپنے امن منصوبے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے محمود الھباش کاکہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے گذشتہ بدھ کو کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے کوئی امن منصوبہ تیار کیا ہے جس کی تفصیلات چند ہفتوں کےاندر اندر سامنے لائی جائیں گی، مگر فی الحال فلسطینیوں کو ہمیں اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ ہمیں کوئی علم نہیں کہ اس منصوبے میں کیا تجاویز، شرائط اور طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
امریکا کے مشرق وسطیٰ کے لیے نام نہاد امن منصوبے سے تعلق خبریں کئی ماہ سے سننے کو مل رہی ہیں۔ اگرچہ اس منصوبے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں مگر اس حوالے سے بعض چہ میگوئیاں گردش میں ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کی ’صدی کی ڈیل‘ منصوبے میں اسرائیل ۔ فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی پناہ گزینوں کو عرب ممالک میں آباد کرنے، ان کے لیے روز گار، کاروبار اور ترقی کے مواقع مہیا کرنے، غزہ کی سرحدوں کو جزیرہ سیناء تک وسیع کرنے جیسی تجاویز شامل ہیں۔ یہ سب باتیں اس لیے مشہور کی جا رہی ہیں کہ ان پر فلسطینیوں اور عرب ممالک کا رد عمل معموم کیا جاسکے۔ فلسطینیوں اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کوآباد کرنے کے بارے میں امریکی امن تجاویز کو مسترد کردیا گیا ہے۔
محمود الھباش نے کہا کہ اگر تو صدی کی ڈیل میں وہی کچھ ہے جو ہم سن رہے ہیں تو ہمیں وہ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا منصوبہ 1995ء کو شمعون پیریز پہلی بار اور 1998ء میں دوبارہ پیش کیا تھا جسے مسترد کردیا گیا تھا۔