.

ترکی کا دوسرا فوجی قافلہ اِدلب میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکی کا ایک نیا فوجی قافلہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب شام کے شمال مغرب میں اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں داخل ہو گیا۔

قافلے میں 40 سے زیادہ گاڑیاں شامل ہیں جن میں اکثریت فوجیوں کو منتقل کرنے کی بسوں اور چھوٹے ٹرکوں اور وینوں کی ہے۔

قافلے کی زیادہ تر گاڑیوں میں ترک فورسز سوار تھیں۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق یہ گاڑیاں ادلب کے جنوب مغرب میں جسر الشغور کے دیہی علاقے میں پھیل گئیں۔

ترکی نے اپنی فورسز کو ادلب اور اس کے اطراف 12 چیک پوائنٹس پر تعینات کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد روس، ایران اور ترکی کی سرپرستی میں ہونے والی آستانہ بات چیت کے نتیجے میں طے پائے گئے "جارحیت کم کرنے" کے معاہدے پر کاربند رہنے کو یقینی بنانا ہے۔

ترکی کی جانب سے حال ہی میں شام میں اپنی کمک ارسال کرنے کے حوالے سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کی 17 تاریخ کو ماسکو اور انقرہ کے درمیان 'ہتھیاروں سے خالی علاقے" کے قیام سے متعلق معاہدہ طے پانے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ ترکی کا فوجی قافلہ شام میں داخل ہوا ہے۔ مذکورہ سمجھوتے کے نتیجے میں اِدلب اور اس کے اطراف کو ایک وسیع حملے سے بچا لیا گیا جس کی تیاری شامی حکومت کئی ہفتوں سے کر رہی تھی۔

معاہدے کی رُو سے ترکی کو اس پر کام کرنا ہے کہ مجوزہ غیر فوجی علاقے میں اپوزیشن کے جنگجو اپنے بھاری ہتھیاروں کو 10 اکتوبر تک حوالے کر دیں اور 15 اکتوبر تک "شدت پسند عناصر" کا علاقے سے مکمل انخلاء عمل میں آ جائے۔ بعد ازاں ترکی کی فورسز اور روس کی ملٹری پولیس علاقے کی نگرانی کریں گی۔

ادلب کے بڑے حصّے پر ہیئۃ تحریر الشام (سابقہ النصرہ فرنٹ) تنظیم کا کنٹرول ہے جب کہ بقیہ علاقوں میں پائے جانے والے گروپوں کی اکثریت "نیشنل لبریشن فرنٹ" تنظیم میں شامل ہیں۔ ادلب کے جنوب مشرقی دیہی علاقے میں شامی حکومت کی فورسز تعینات ہیں۔