.

ایران سے اسمگل شدہ منشیات کی تجارت سے حوثی ملیشیا اربوں ڈالر کما رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے حوثی ملیشیا کی فنڈنگ کے لیے منشیات اہم ترین ذریعہ ہے۔ اس ذریعے سے ملیشیا کی قیادت بے پناہ دولت کی مالک بن گئی ہے جب کہ یمنی عوام بھوک اور قحط سالی کے کنارے پر کھڑے ہیں۔

"نيوز يمن" نامی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے دور میں حشیش کی تجارت کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ منشیات کے حوثی تاجروں نے گزشتہ تین برسوں کے میں اسمگلنگ اور مارکیٹنگ کی سرگرمیوں کو بڑھا دیا۔ اس دوران اس کے عادی افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور یمن کے بعض مرکزی شہر منشیات کی طلب اور رسد کی کھلی منڈیاں بن گئے۔

مارب اور الجوف صوبوں میں یمنی سکیورٹی اداروں نے حشیش اور منشیات کی بھاری مقدار کی اسمگلنگ کی کئی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ یہ منشیات صنعاء میں حوثی ملیشیا کے لیے لے جائی جا رہی تھی۔

حوثی ملیشیا منشیات کا سہارا لے کر نوجوانوں کو کنٹرول کرتے ہیں اور پھر ان کو لڑائی کے محاذوں میں جھونک دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں حزب اللہ ملیشیا کی رابطہ کاری کے ذریعے لبنان سے بھاری مقدار میں منشیات کے کیپسول یمن اسمگل کیے جا رہے ہیں۔

اقتصادی اندازوں کے مطابق منشیات کی تجارت سے حوثی باغیوں کے خزانے میں آنے والی رقم کا حجم سالانہ چھ ارب ڈالر ہے۔

بہت سے مبصرین کے مطابق بلیک مارکیٹ کی معیشت، ٹیکسوں کی آمندی اور منشیات کی تجارت ،،، یہ اندرونی سطح پر فنڈنگ کے اہم ترین ذائع ہیں جن پر حوثی ملیشیا انحصار کرتی ہے۔