.

ایران کی جیلوں میں گنجائش سے چارگنا زیادہ قیدیوں کو ٹھونسا گیا: رپورٹ

ہر گھنٹے اوسطا 50 افراد کو جیل میں ڈالا جاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہےکہ ملک کی جیلوں‌میں موجود قیدی گنجائش سے چارگنا زیادہ ہوچکے ہیں۔

ایران کی مجلس شوریٰ کی ویب سائیٹ پر سوموار کے روز جاری ایک خبر میں جلبا یجان شہر کے رکن شوریٰ علی بختیار کا بیان شامل کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران ملک میں اقتصادی بحران کی وجہ سے جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے امور جن کا عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کی بنیاد پر لوگوں‌کو پکڑ جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔

علی بختیار کا کہنا ہے کہ لوگوں کو گرفتارکرکے جیلوں میں ڈالنے کے سماجی اور اقتصادی عوامل ہیں، اگرچہ بڑی تعداد میں‌لوگوں کو سیاسی محرکات کی بنیاد پر حراست میں لیا جاتا ہے مگر اس کا تذکرہ نہیں کیا جاتا بلکہ یہ کہا جاتاہے کہ ان کی وجہ سے قومی سلامتی خطرے میں ہے یاوہ ملک کے خلاف جاسوسی کرتے ہیں۔

انہوں‌نے صوبہ الاھوازمیں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ 22 ستمبر کو شہر میں ایک فوجی پریڈ پرحملے کےبعد ایرانی پولیس کے کریک ڈائون میں 600 سے زاید افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر خواتین، سیاسی کارکن اور عام شہری شامل ہیں۔

علی بختیار کا کہنا ہے کہ ملک میں سماجی مسائل کی وجہ سے بھی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت ایرانی جیلوں میں ڈالے گئے قیدیوں کی تعداد گنجائش سے چار گنا زیادہ ہے۔ پچھلے چارماہ کے دوران جیلوں میں ڈالے جانے والے افراد کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ہرگھنٹے 50 افراد جیل میں‌ڈالے جاتے ہیں

ایران میں سنہ 2017ء کے آخر سے ملک ایک نئے اقتصادی بحران سے گذر رہا ہے۔ ملک میں جاری معاشی بحران کی وجہ سے لوگ سڑکوں پ نکل کراحتجاج پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب ایرانی سیکیورٹی اداروں کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کری ڈائون میں‌بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی شوریٰ‌کے رکن علی بختیار کا کہنا ہے کہ اوسطا ہر گھنٹے میں 50 افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں‌ڈالا جا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'ایسنا' کی طرف سے 12 مئی 2018ء کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں‌بھی بتایا گیا تھاکہ ایرانی پولیس ہرگھنٹے اوسطاً50 افراد کو روزانہ 1200 افرا کو گرفتار کرتی ہے۔ سالانہ یہ تعداد قریبا 4 لاکھ 38ہزار بنتی ہے جو ایران کی کل آبادی کا 5 فی صد ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہر 200 ایرانی باشندوں میں ایک کو ضرور جیل میں‌ڈالا جاتا ہے۔