ایرانی شدت پسند تہران میں یورپی یونین کا دفتر کھولنے کے سخت خلاف

یورپی دفتر تہران میں جاسوسی کا اڈا ثابت ہوگا: نقوی حسینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے شدت پسند حلقوں نے تہران میں یورپی یونین کا نمائندہ دفتر کھولنے کی کوششوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی خارجہ وقومی سلامتی کمیٹی کے رکن حسین نقوی حسینی نے تہران میں یورپی یونین کا دفتر کھولنے کی اجازت دینے کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران میں یورپی یونین کے دفتر کے قیام کی اجازت دینے سے امریکا کی ایران پر پابندیوں کو غیر موثر نہیں بنایا جا سکتا۔

ایرانی نیوزایجنسی "YJC " سے بات کرتے ہوئے الحسینی نے کہا کہ تہران میں یورپی یونین کو دفتر قائم کرنے کی اجازت دینا ایران کی جاسوسی کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔ اس دفتر کے قیام کے بعد ہماری مالیاتی اور اقتصادی معلومات کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

ایرانی شدت پسند رہ نما نے کہا ہمیں یورپی یونین کی طرف سے معاونت کی کوئی ضرورت نہیں۔ یورپی ملکوں‌ نے ہماری کوئی مدد نہیں کرنی۔ وہ صرف ہماری جاسوسی کرنا چاہتے ہیں۔

نقوی الحسینی کا مزید کہنا تھا کہ پوری ایرانی قوم کو تہران میں یورپی یونین کے دفتر کے قیام کی کوششوں پر تشویش ہے۔ یورپ ہمارے اندرونی امور میں مداخلت کے لیے راہ تلاش کررہا ہے۔ یہی مرکز کل کو ہمارے خلاف عالمی اداروں میں رپورٹیں پیش کرے گا۔ انہوں‌نے کہا کہ یورپی یونین کے نمائندہ دفتر کے بعد تہران آنے والا کوئی بھی یورپی سفیر یا وزیر ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں