شام کے الرکبان پناہ گزین کیمپ میں کئی ماہ کے بعد امدادی کارکن داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے مندوبین کے مطابق شامی حکومت کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد ہلال احمر کے امدادی کارکن پہلی بار اردن کی سرحد پرقائم الرکبان پناہ گزین کیمپ میں امدادی سامان کے ساتھ داخل ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کے مطابق یہ رواں سال جنوری کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ محاصرہ زدہ پناہ گزین کیمپ "الرکبان" میں امدادی کارکنوں اور خوراک کا سامان لے جانے کی سرکاری سطح پر اجازت دی گئی ہے۔

دمشق میں اقوام متحدہ کے انسانی شعبے کی رابطہ کار فدویٰ بارود نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ شامی ہلال احمر کے امدادی رضاکاروں کے ذریعے امدادی قافلہ الرکبان پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ امدادی قافلے میں خوراک اور دیگر ضروری سامان سے لدے 78 ٹرک کل اتوار کو کیمپ میں داخل ہوئے۔ اس کیمپ میں ہزاروں شامی پناہ گزین کئی سو کلو میٹر کا صحرائی سفر کرکے وہاں پہنچے ہیں، مگر کیمپ میں امدادی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں اور کیمپ میں آنے والے افراد بیماریوں اور بھوک کی وجہ سے مرنے لگے تھے۔

قبل ازیں شامی ہلال احمر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی کہا گیاہے کہ اقوام متحدہ کے اشتراک سے ایک امدادی قافلہ الرکبان کیمپ کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس قافلے کے کیمپ تک پہنچنے میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں۔ قافلے کے ذریعے الرکبان پناہ گزین کیمپ میں موجود 50 ہزار شامی شہریوں کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر سامان لے جایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اردن کے بجائے الرکبان پناہ گزین کیمپ تک شام کے اندر سے یہ پہلا امدادی قافلہ وہاں پہنچا ہے۔ اس سے قبل اس کیمپ میں محدود پیمانے پر ہونے والی امدادی سرگرمیاں اردن کی طرف سے کی جاتی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں