.

فرانس: بشارالاسد کے تین مقربین کے ریڈ وارنٹ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی ایک عدالت نے بشارالاسد کے تین مقربین جن کا تعلق انٹیلی جنس کے شعبے سے ہے کے ریڈ وارنٹ جاری کیے ہیں۔

فرانسیسی اخبار "لی مونڈ" نے سوموار کےروز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شامی صدر بشار الاسد کے انتہائی قریبی ساتھی میجر جنرل علی مملوک سمیت تین عہدیداروں کو اشتہاری قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ میجنر جنرل علی مملوک شام کی حکمران جماعت البعث کے زیرانتظام نیشنل ڈیفینس دفتر کے انچارج ہیں اور انہیں بشارالاسد کی جانب سے کئی دوسری کلیدی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔

فرانسیسی اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت کی طرف سے جن تین شامی عہدیداروں کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں ان پر فرانس کی عدالتوں میں جنگی جرائم کے کئی مقدمات قائم ہیں۔ ان پر شام میں انسانیت کے خلاف جرائم فرانس کی شہریت رکھنے والے دو شہرویں مازن دماغ اور ان کے بیٹے پیٹرک عبدالقادر کی جبری گم شدگی کا الزام بھی عاید کیا جاتا ہے۔

اسد رجیم کے مقربین کے خلاف مقدمات کے قیام اور ان عدالتی کارروائی میں ان دستاویزات اور تصاویر نے اہم کردار ادا کیا ہے جو سنہ 2013ء کو شامی فوج کے ایک فوٹو گرافر نے بیرون ملک فرار کے دوران فرانس منتقل کردی تھیں۔ ان میں جیلوں میں قیدیوں سے غیرانسانی سلوک کی ہزاروں تصاویر بھی شامل ہیں۔

شامی فوج نے مازن دباغ اور اس کے بیٹے عبدالقادر کو نومبر 2013ء کو فرانس سےواپسی کے دوران حراست میں لیا تھا۔ ان کی گرفتاری ایک پرامن مظاہرے میں شرکت کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ بعد ازاں دروان حراست دونوں باپ بیٹے کو اذتیں دے کر قتل کردیا گیا تھا۔

دونوں شہریوں کی جبری گم شدگی کے مقدمہ کی باقاعدہ سماعت اکتوبر 2015ء سے شروع کی گئی تھی۔ سنہ 2016ء کو تین ججوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں شامی حکومت اور انٹیلی جنس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔