.

عراق ایران سے خوراک کے بدلے میں گیس کی خرید اری کی امریکا سے منظوری کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق نے ایران سے خوراک کی اشیاء کے بدلے میں گیس اور توانائی خرید کرنے سے اتفاق کیا ہے اور اب وہ اس سودے کی امریکا سے منظوری کا خواہاں ہے۔

دو عراقی عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکا سے توانائی کا کوئی متبادل بندوبست ہونے تک ایرانی گیس درآمد کرنے کی منظوری دینے کے لیے کہا گیا ہے۔عراق اس ایرانی گیس کو اپنے پاور اسٹیشنوں میں استعمال کرتا ہے۔

امریکا نے عراق کو 45 روز تک ایران سے گیس درآمد کرنے کی اجازت دی ہے اور اس سے کہا ہے کہ وہ اس کے بعد توانائی کا کوئی متبادل بندوبست کرے لیکن ایک عراقی عہدے دار کا کہنا ہے کہ یہ مدت بہت تھوڑی ہے اور صرف ڈیڑھ ایک ماہ میں توانائی کے حصول کے لیے کسی دوسرے ملک سے سمجھوتا ممکن نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ اگر امریکا کی مقرر کردہ تاریخ کے بعد ایرانی گیس کی درآمد بند کردی جاتی ہے تو اس کے بعد ملک میں بجلی کا حقیقی بحران پیدا ہوجائے گا۔ ہمیں مزید وقت کی ضرورت ہے ۔امریکی اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور انھیں پتا ہے کہ ہمیں ایرانی گیس کی کتنی اشد ضرورت ہے‘‘۔

دوسرے عراقی عہدے دار کا کہنا ہے کہ عراق ایران سے گیس اور توانائی کی خرید جاری رکھنا چاہتا ہے اور اس کے بدلے میں وہ ایران کو خوراک اور انسانی ضرورت کی اشیاء دے گا اور ایران نے بھی اس تجویز کو منظور کر لیا ہے۔

امریکا نے ایران کے خلاف گذشتہ ہفتے نئی پابندیوں کے نفاذ کے بعد عراق کو اس سے گیس اور توانائی خرید کرنے کی اجازت دے دی تھی لیکن بعد میں کہا ہے کہ اس کو یہ استثنا صرف 45 روز کے لیے حاصل ہوگا ۔اس کے بعد وہ ایران سے گیس خرید نہیں کرسکےگا۔