.

عراقی وزیراعظم کا مستعفی ہونے کا عندیہ، سیاسی منظر میں ہلچل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے حکومتی تشکیل کی تکمیل بالخصوص بقیہ وزارتی قلم دانوں کے حوالے سے درپیش مشکلات کے نتیجے میں اپنے منصب سے مستعفی ہو جانے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد پارلیمنٹ کے سیاسی بلاکوں کو دشوار صورت حال کا سامنا ہے۔

عراقی کابینہ کے حالیہ چودہ وزراء میں سے کسی بھی ایک اور وزیر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہونے کی صورت میں حکومت ختم ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں صدر برہم صالح کو وزارت عظمی کے لیے کسی دوسری شخصیت کو نامزد کرنا ہو گا جس سے عراق کا سیاسی منظرنامہ پیچیدہ ہو جائے گا۔

عادل عبدالمہدی پارلیمانی بلاکوں پر دباؤ کا "کارڈ" استعمال کر رہے ہیں جو غالبا آخری حربہ ہے۔ عراقی وزیراعظم کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ مقررہ عرصے کے دوران حکومتی تشکیل مکمل نہیں کر سکیں گے۔

عادل عبدالمہدی اس سے قبل دو مرتبہ اعلی منصبوں سے مستعفہ ہو چکے ہیں۔ ایک مرتبہ وہ ملک کے نائب صدر تھے جب کہ دوسری مرتبہ بطور وزیر تیل وہ اپنے عہدے سے سبک دوش ہو گئے تھے۔ لہذا اس بنیاد پر پارلیمانی بلاکوں کو عراقی وزیراعظم کے حالیہ عندیے کا پورا اعتبار ہو گا۔