.

کھجور فروش سے سعودی ٹی وی کا ڈائریکٹر جنرل بننے تک !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مجلس شوری (پارلیمنٹ) کے سابق رکن ڈاکٹر عبدالرحمن الصالح الشبیلی نے اپنی آپ بیتی "مشيناها..حكايات ذات" کے عنوان سے لکھی گئی کتاب میں بیان کی ہے۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن نومبر میں منظر عام پر آیا۔

الشبیلی کو اپنی زندگی کی داستان صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے میں ڈیڑھ برس کا عرصہ لگا۔ اگرچہ الشبیلی اس سے قبل مختلف شخصیات کی سوانح حیات تحریر کر چکے ہیں تاہم اپنی کتاب کے لیے وہ "سوانح حیات" کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ڈاکٹر الشبیلی 1944 میں سعودی عرب کے علاقے عنیزہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے نام پر 55 کتابیں اور مطبوعہ لیکچر موجود ہیں جن کا تعلق تاریخی شخصیات کی زندگیوں سے ہے۔

الشبیلی نے اپنی یادداشتوں میں زندگی کے اہم مراحل پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان میں عنیزہ میں پروان چڑھنے اور اس کے بازاروں میں گھومنے پھرنے کے علاوہ قارئین کے لیے اس زمانے کی سماجی، ثقافتی اور اقتصادی زندگی کا منظر نامہ پیش کرنا شامل ہے۔ الشبیلی نے اپنے والد کے ساتھ مل کر 15 برس کی عمر سے زیادہ تک کھجوروں کی فروخت کا کام کیا۔

الشبیلی نے ابتدائی تعلیم عنیزہ میں 1937 میں قائم ہونے والے "العزیزیہ" اسکول سے حاصل کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے اسکول کے اساتذہ یونیورسٹی کی تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود اہلیت اور قابلیت کا اعلی درجہ رکھتے تھے۔

بعد ازاں 1960 کی دہائی میں الشبیلی یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے واسطے ریاض منتقل ہو گئے۔ وہ 3 جنوری 1965 کو ریاض سے سرکاری ریڈیو کی نشریات کے آغاز میں مرکزی کردار ادا کرنے والے افراد میں شامل تھے۔

ڈاکٹر الشبیلی عملی زندگی کے میدان میں 55 برس کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے 14 برس وزارت اطلاعات میں، 17 برس اعلی تعلیم کی وزارت میں، 12 برس مجلس شوری میں کام کرنے کے علاوہ 12 سماجی ثقافتی سرگرمیوں میں گزارے اور اب بھی ان ہی کے ساتھ وابستہ ہیں۔

الشبیلی نے 14 برس تک سعودی عرب کی وزارت اطلاعات میں خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے متعدد انتظامی عہدوں کو سنبھالا یہاں تک کہ 1971 میں وہ سعودی ٹی وی کے ڈائریکٹر جنرل بنا دیے گئے۔ سعودی عرب میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ الشبیلی ہی وہ شخصیت ہیں جس نے ریڈیو پر حرم شریف کی براہ راست اذان نشر کیے جانے کے بعد حدیث میں مذکور دعا "اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة" پڑھے جانے کو لازم کیا۔ یہ سلسلہ 1960 کی دہائی سے آج تک جاری ہے۔ الشبیلی کو مملکت میں ریڈیو کی تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

الشبیلی کی کتاب (مشيناها..حكايات ذات) میں سب سے زیادہ یعنی 100 صفحات ذرائع ابلاغ کے تذکرے پر مشتمل ہیں۔

کتاب کے دیگر حصوں میں بچپن کی زندگی، تعلیمی مراحل، اعلی تعلیم کی وزارت اور مجلس شوری میں کام اور مختلف نوعیت کی کونسلوں میں ذمے داریاں انجام دینے کی رُوداد بیان کی گئی ہے۔

کتاب کے آخری حصے میں الشبیلی نے اپنی ذاتی زندگی کے گوشوں کو پیش کیا ہے۔ ان میں بعض غمگین یادیں مثلا ان کے بیٹے طلال کی وفات اور پھر الشبیلی کا بائی پاس آپریشن وغیرہ کا تذکرہ شامل ہے۔ الشبیلی کے مطابق انہوں نے اس کتاب میں سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔