.

اسرائیل کا لبنان کے سرحدی علاقے میں حزب اللہ کی چوتھی سرنگ کا سراغ لگا نے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے لبنان کے سرحدی علاقے میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی چوتھی سرنگ کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سرنگ لبنان سے اس کے شمالی علاقے میں داخل ہورہی تھی۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ شیعہ ملیشیا نے مستقبل میں کسی تنازع کی صورت میں ان سرنگوں کو حملوں کے لیے کھودا تھا۔فوج انھیں تباہ کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔

گذشتہ قریباً دو ہفتے کے دوران میں اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے تین سرنگوں کا انکشاف کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے سرحدی علاقے میں ان زیر زمین سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی شروع کررکھی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس چوتھی سرنگ کے حقیقی محل وقوع کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ اس سے کوئی حقیقی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس زیر زمین سرنگ کے اندر دھماکا خیز مواد نصب کردیا گیا ہے تاکہ ان کے اندر کوئی داخل نہیں ہوسکے۔

اسرائیلی فوج نے 4 دسمبر کو ’’ شمالی ڈھال ‘‘ کے نام سے لبنان کے ساتھ سرحدی علاقے میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی کھودی گئی سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’لبنانی حکومت اس علاقے میں حملوں کے لیے کھودی گئی ان سرنگوں کی ذمے دار ہے‘‘۔

اس نے مزید کہا تھا کہ ’’ فوجی حزب اللہ کی حملوں کے لیے بنائی گئی سرنگوں کا سراغ لگانے کے لیے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھیں گے‘‘۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس ( یونیفل) اور عالمی برادری کو حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہییں۔یونیفل نے اسرائیلی فوج کی پہلے سے منکشف کردہ دو سرنگوں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔