.

غیر قانونی نقل مکانی روکنے کے لئے الجزائر میں منبر ومحراب کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک الجزائر میں شہریوں کی غیر قانونی طور پر یورپی ممالک کی طرف ھجرت روکنے کے لیے مساجد اور علماء کرام سے معاونت حاصل کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل جمعہ کے روز ملک کی بیشتر مساجد میں علماء اور مساجد کے آئمہ کرام نے "غیر قانونی ھجرت" کو اپنے خطبات کا موضوع بنایا۔

الجزائر کی مساجد سے غیر قانونی ھجرت کے خلاف آواز ایک ایسے وقت میں اٹھائی گئی ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران یورپی ملکوں کی طرف نقل مکانی کی کوشش کے دوران درجنوں افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مساجد سے شہریوں کو غیر قانونی ھجرت سے روکنے کی کوشش کے پیچھے حکومت کا ہاتھ ہے۔ نوجوانوں، خواتین اور بچوں کوغیر قانونی طور پر یورپی ملکوں کو لے جانے کی مہمات کے خلاف حکومت نے مساجد کے آئمہ سے مدد مانگی تھی۔

حکومت کومساجد کے آئمہ سے اس وقت رجوع کرنا پڑا جب ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو یورپ اور دوسرے ملکوں کی طرف ھجرت سے روکنے میں ناکام رہے اور اس غیر قانونی ھجرت کے نتیجے میں شہریوں کا بے پناہ جانی نقصان ہوا۔

الجزائر کے وزیر برائے مذہبی امور محمد عیسیٰ نے "فیس بک" پر پوسٹ ایک بیان میں کہا کہ علماء کرام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وطن اور قوم کے لیے اپنے خطبات میں بات کریں اور نوجوانوں کی غیرقانونی ھجرت کی روک تھام کے لیے منبرو محراب سے آواز اٹھائیں۔

الجزائری وزیر کا کہنا تھا کہ موت کی کشتیاں آئے روز ہمارے نوجوانوں کی جانیں لے رہی ہیں۔

ایک مقامی سماجی اور انسانی حقوق کارکن عبدالمجید یحییٰ کا کہنا ہے کہ مساجد کے آئمہ کے ذریعے شہریوں کو بیرون ملک نقل مکانی سے روکنے کے لیے استعمال کرنے سے خاطر خواہ فایدہ نہیں ہوسکتا۔

ان کا کہنا ہے جب تک حکومت نوجوانوں کی اقتصادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جاندار اقدامات نہیں کرتی اس طرح کی مہمات غیر موثر ثابت ہوں‌ گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مساجد کے ذریعے شہریوں کو بیرون ملک ھجرت سے روکنے کی کوشش مثبت اقدام ہے مگر یہ کافی نہیں۔ حکومت کو شہریوں کی اقتصادی ضروریات پوری کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔