حماس کا غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح سرحدی گذرگاہ پر دوبارہ کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی جماعت حماس کے تحت انتظامیہ کے ملازمین نے غزہ پٹی اور مصر کے درمیان رفح کے مقام پر واقع سرحدی گذرگاہ کا دوبارہ مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔اس سے پہلے فلسطینی صدر محمود عباس کے زیر قیادت اتھارٹی سے وہاں سے اپنے عملہ کو ہٹا لیا تھا۔

فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ شہری امور نے اتوار کو ایک بیان میں حماس پر اپنے ملازمین کو گرفتار کرنے اور ان سے ناروا سلوک کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا رفح بارڈر کراسنگ پر تعیناتی کا کچھ فائدہ نہیں ،اس لیے انھیں وہاں سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حماس کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ انھوں نے سوموار کو بارڈر کراسنگ پر کسی قسم کے سکیورٹی خلا سے بچنے کے لیے اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ غزہ شہر میں حماس کے تحت وزارتِ داخلہ کے ترجمان ایاد البوزم نے کہا ہے کہ ’’ ان کی تنظیم اپنے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرے گی‘‘۔

رفح کی گذرگاہ غزہ کی پٹی سے مصر کی جانب نکلنے کا واحد زمینی راستہ ہے جس سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں ۔ یہ گذرگاہ سوموار کو آرتھو ڈکس عیسائیوں کے کرسمس کے تیوہار کی وجہ سے بند رکھی گئی ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس کو منگل کے روز معمول کے مطابق کھولا جائے گا یا نہیں۔مصر کی جانب سے بھی آج اس گذرگاہ کو کھولنے کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں