.

حماس کا غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح سرحدی گذرگاہ پر دوبارہ کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی جماعت حماس کے تحت انتظامیہ کے ملازمین نے غزہ پٹی اور مصر کے درمیان رفح کے مقام پر واقع سرحدی گذرگاہ کا دوبارہ مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔اس سے پہلے فلسطینی صدر محمود عباس کے زیر قیادت اتھارٹی سے وہاں سے اپنے عملہ کو ہٹا لیا تھا۔

فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ شہری امور نے اتوار کو ایک بیان میں حماس پر اپنے ملازمین کو گرفتار کرنے اور ان سے ناروا سلوک کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا رفح بارڈر کراسنگ پر تعیناتی کا کچھ فائدہ نہیں ،اس لیے انھیں وہاں سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حماس کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ انھوں نے سوموار کو بارڈر کراسنگ پر کسی قسم کے سکیورٹی خلا سے بچنے کے لیے اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ غزہ شہر میں حماس کے تحت وزارتِ داخلہ کے ترجمان ایاد البوزم نے کہا ہے کہ ’’ ان کی تنظیم اپنے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرے گی‘‘۔

رفح کی گذرگاہ غزہ کی پٹی سے مصر کی جانب نکلنے کا واحد زمینی راستہ ہے جس سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں ۔ یہ گذرگاہ سوموار کو آرتھو ڈکس عیسائیوں کے کرسمس کے تیوہار کی وجہ سے بند رکھی گئی ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس کو منگل کے روز معمول کے مطابق کھولا جائے گا یا نہیں۔مصر کی جانب سے بھی آج اس گذرگاہ کو کھولنے کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔